رپورٹ میں ہندو پاک اور چین کی قومی سرحدوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر خصوصی زور
واشنگٹن : ایک نئی امریکی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین، ہندوستان اور پاکستان کے رہنما، جوہری ممالک کے درمیان مسلح تصادم کے خدشات اور قیمت سے واقف ہیں لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی جنگ کی آگ کو بھڑکا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق وفاقی ادارے یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی) نے یہ مشاہدہ رواں ہفتے جاری ہونے والے اپنے سینئر اسکالرز کے مطالعے کی حتمی رپورٹ میں کیا۔رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں تزویراتی حالات کی تبدیلی کے سبب درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا ہے، امریکی پالیسی کے متعدد پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور امریکی پالیسی سازوں کے لیے ترجیحی سفارشات کا ایک سیٹ پیش کیا گیا ہے۔اس میںامریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جوہری خطرے میں کمی کے اقدامات پر ازسرنو توجہ مرکوز کرے، جس کا آغاز دوطرفہ معاہدوں اور طریقوں کی معاونت سے ہند وستا ن۔پاکستان جوہری ہاٹ لائن کے قیام سے ہوتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کو بھارت اور چین دونوں پر زور دینا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام کے لیے مذاکرات کریں اور انہیں علاقائی اور عالمی تزویراتی استحکام پر ایک نئے عبوری علاقائی فورم کا خیال بھی اٹھانا چاہیے جس میں نیوکلیئر-7 (این 7) ممالک چین، فرانس، ہندوستان ، پاکستان، روس، برطانیہ اور امریکا شامل ہوں گے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس فورم کو نیوکلیئراصولوں کو مستحکم کرنے کے بارے میں بات کرنی چاہیے اور اسے مضبوط کرنا چاہیے۔رپورٹ میں یہ تصور کیا گیا کہ امریکہ اور ہند وستان کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے یا جوہری بحران کے امکانات میں اضافے کے بغیر روایتی اور نیوکلیئر رکاوٹ کو مستحکم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔یو ایس آئی پی، بائیڈن انتظامیہ پر یہ بھی زور دیتا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان میں مقیم دہشت گردوں کی جانب سے علاقائی استحکام کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ اپنے جاری مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور مالی فائدے کا استعمال کرے، اس نکتے پر مزید زور دینے کے لیے رپورٹ میں ہندوستان مخالف دہشت گردوں کو امریکی خدشات اور اہداف کی ترجیح قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔قومی سرحدوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رپورٹ کا استدلال ہے کہ ڈیٹرنس منطق یہ بتاتی ہے کہ بیجنگ، اسلام آباد اور نئی دہلی کو اپنی سرحدوں پر کمزور نظر آنے کے لیے بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پڑوسیوںکی جانب سے مہم جوئی یا غنڈہ گردی کی حوصلہ افزائی کا خوف قوموں کے لیے تنازعات کو اس انداز میں آگے بڑھانے کے زیادہ امکان کا سبب بنتا ہے جس سے معمولی جھڑپوں کو بڑے تعطل میں بدلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔اس میں نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں 2019 کے دہشت گردانہ حملے جواب میں پاکستان میں بھارتی فضائی حملوں کا سبب بنے جس کے بعد پاکستان نے ہندوستان میں جوابی کارروائی کی۔اسی طرح 2020 میں ہندو ستان اور چینی سرحدی دستوں کے درمیان خطرناک جھڑپوں نے دونوں فریقین کو بلند پہاڑی سطح پر ٹینک اور توپ خانے بھیجنے پر اکسایا۔