جنگ بندی کا خیرمقدم، امن مذاکرات سے دہشت گردی کا مستقل حل تلاش کیا جائے

   

ہندوستانی افواج کی بہادری کو خراج تحسین، سی پی آئی قائدین ڈاکٹر نارائنا اور عزیز پاشاہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 11 مئی (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹریز ڈاکٹر کے نارائنا اور سید عزیز پاشاہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہندوستان امن مذاکرات کے دوران پاکستان سے مطالبہ کرے کہ پہلگام حملہ کے خاطیوں کو حوالہ کیا جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی پی آئی قائدین نے کہا کہ سماج میں دہشت گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ انسانی جانوں کو نقصان پہنچانا ان کا مذہب ہے۔ لہذا کسی بھی مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنا افسوسناک ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ آپریشن سندور کے ذریعہ ہندوستانی افواج نے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور آپریشن سندور کامیاب ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی نے افواج کی اس دلیرانہ کارروائی کی ستائش کی ہے۔ سارا ملک افواج کے ساتھ کھڑا ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اگنی ویر مرلی نائک کی شہادت پر قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لئے ہندوستان کو بین الاقوامی طاقتوں کی تائید حاصل کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر جیسے دہشت گردوں کو ہندوستان منتقل کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ سی پی آئی قائدین نے جنگ بندی کی تائید کی اور کہا کہ مستقل طور پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے ذات پات پر مبنی مردم شماری کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سماجی انصاف کی فراہمی میں یہ فیصلہ مددگار ثابت ہوگا۔ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مردم شماری کی تکمیل کے شیڈول کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل طبقاتی مردم شماری مکمل کرلی جائے۔ سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ پاکستان کے تائیدی دہشت گردوں کی کارروائی کے بعد دنیا بھر کے ممالک میں ہندوستان کے موقف کی تائید کی۔ پاکستان کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ہندوستانی فوج نے ناکام کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی افواج نے اپنی صلاحیت اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کے ذریعہ دہشت گردی کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور پاکستان کی جانب سے پھر کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ 1