جونئیر ڈاکٹرس آج سے خدمات کا بائیکاٹ کریں گے

   

حکومت کی مشاہرہ کی ادائیگی میں ناکامی پر فیصلہ ۔ دیگر مسائل پر بھی احتجاج
حیدرآباد 21 مئی(سیاست نیوز)تلنگانہ جونیئر ڈاکٹرس اسوسی ایشن 22مئی سے ریاست میں اپنی خدمات کا بائیکاٹ کرے گی اور حکومت کی جانب سے مشاہرہ کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا جائے گا۔ تلنگانہ ریاستی جونیئر ڈاکٹرس اسوسیشن کی جانب سے محکمہ صحت کو روانہ مکتوب میں ڈاکٹرس کی تنظیم نے محکمہ صحت کو مطلع کیا کہ ریاست گیر سطح پر حکومت سے جونیئر ڈاکٹرس بالخصوص سوپراسپیشالیٹی ڈاکٹرس کے مشاہرہ کی ادائیگی میں ناکامی کے سبب وہ خدمات کے بائیکاٹ پر مجبور ہوئے ہیں۔ جونیئر ڈاکٹرس نے مکتوب میں بتایا کہ حکومت سے جو فیصلہ کیا گیا تھا اس کے مطابق ڈاکٹرس کو ماہانہ 1لکھ 25 ہزار روپئے مشاہرہ ادا کیا جانا چاہئے لیکن حکومت سے ماہ مارچ سے اب تک کا مشاہرہ جاری نہیں کیا گیا ہے جبکہ مارچ اور اپریل کے مشاہرہ کی بل محکمہ فینانس میں منظور ہوچکی ہیں لیکن اب تک ڈاکٹرس کو جاری نہیں کی گئی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ڈاکٹرس کو مشاہرہ کی عدم ادائیگی پر جونیئر ڈاکٹرس کی تنظیم اور ڈاکٹرس کی جانب سے متعدد مرتبہ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن سے نمائندگی کی جاچکی ہے اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی اسی لئے ڈاکٹرس نے 22 مئی سے خدمات کے بائیکاٹ کافیصلہ کیا ہے۔ جونیئر ڈاکٹرس بالخصوص سینیئر ریسیڈینٹس‘ ہاؤز سرجن اور پوسٹ گریجویٹ جو سرکاری دواخانوں میں برسر خدمت ہیں ان کے مشاہرہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں ابتداء میں 15تا20یوم کی تاخیر ہوا کرتی تھی اور محکمہ فینانس کی جانب سے منظوری کے بعد ٹوکن جاری کیا جاتا تھا اور اس کے بعد اندرون تین یوم یہ رقومات متقل کردی جاتی تھیں لیکن اب جبکہ مارچ 2024سے مشاہرہ ادا شدنی ہے اس کے باوجود حکومت اور محکمہ صحت سے ان کے مطالبہ پر توجہ نہیں دی گئی تو ڈاکٹرس نے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ۔ ڈاکٹرس کی تنظیم نے بتایا کہ ان کے مطالبات کی یکسوئی میں کوتاہی سے اب تک دواخانہ عثمانیہ کا مسئلہ بھی جوں کا توں ہے علاوہ ازیں حکومت سے جونیئر ڈاکٹرس کو تیقنات بالخصوص ہاسٹل سہولتوں پر بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ 3