’’جہنم کا منصوبہ…‘‘ اسرائیل غزہ کا محاصرہ سخت کرنے کوشاں

   

ہمارے ہتھیار سرخ لکیر ، غزہ کی تعمیر نو کے بدلے سمجھوتہ نہیں ہوگا ، حماس کا ردعمل

تل ابیب/ دوحہ : اسرائیلی حکومت غزہ کی پٹی کا محاصرے کو مزید سخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ اقدام اس منصوبے کا حصہ ہے جسے اس نے ’’جہنم کے منصوبے‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر ہی مزید قیدیوں کو رہا کر دے۔ذرائع نے بتایا کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے اتوار کے روز غذائی مواد اور ایندھن کی فراہمی معطل کرنے کے اعلان کے بعد مزید آگے بڑھ جانے کی تیاری کر لی ہے۔ حکومت غزہ کی پٹی کو الگ کرنے اور اس کے گرد محاصرہ بڑھانے کے پلان پر عمل کے لیے کوشاں ہے۔ غزہ پٹی میں تقریبا 22 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ یہ تفصیلات اسرائیل کے پبلک ریڈیو اسٹیشن CAN نے نشر کی ہیں۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ ’’جہنم کا منصوبہ‘‘ کے نام سے معروف پلان میں بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کرنا اور غزہ پٹی کے شمال سے فلسطینیوں کو دوبارہ جنوب میں بھیجنا شامل ہے۔ اس کا مقصد وسیع دائرہ کار کی حامل جنگ کے دوبارہ ممکنہ آغاز کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے اسرائیلی فوج کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ دوبارہ لڑائی کیلئے تیار رہے۔ یہ بات اسرائیلی ویب سائٹ ’ویلا‘ نے بتائی۔اس کے مقابل یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں مذاکرات تعطل کا شکار رہنے کی صورت میں حماس بھی دوبارہ لڑائی شروع ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیل نے رواں ہفتے ایک پلان پیش کیا تھا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ کی جانب سے فائر بندی کا نیا منصوبہ ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کیلئے حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط پر فلسطینی تنظیم نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے واضح کیا کہ تحریک کو غیر مسلح کرنا ’’سرخ لکیر‘‘ ہے اوراس پر کوئی سودے بازی نہیں کی جاسکتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’حماس تعمیر نو اور امداد کے بدلے اپنے ہتھیاروں پر سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی ‘‘ ۔ سامی ابو زہری نے اسرائیل کے اس مطالبے کو ’’محض بکواس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس اوردیگر فلسطینی دھڑوں کے ہتھیار ان کی مزاحمت کی علامت ہیں اور اس پر کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’غزہ کے باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوئی بھی تجویز یا منصوبہ قبول نہیں کیا جائے گا ‘‘ ۔