مسلمہ و رجسٹرڈ جماعتوں کی اکثریت ای وی ایم کی مخالف ۔ کورونا کے تحت فیصلہ
حیدرآباد۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات بیالٹ پیپر پر ہونگے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے کمشنر جی ایچ ایم سی و سیاسی جماعتوں کو مکتوب روانہ کرکے ان سے رائے حاصل کرنے کے بعد جی ایچ ایم سی کو اختیار دیا تھا کہ وہ مشاورت ٰ عہدیداروں سے بات چیت کے بعد قطعی فیصلہ کریں کہ انتخابات بیالٹ پیپر کے ذریعہ کروائے جائیں یا الکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر ۔ الیکشن کمیشن نے 11مسلمہ اور 39رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مکتوب روانہ کرکے رائے حاصل کی۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے بتایا کہ 11مسلمہ جماعتوں میں 8 نے جواب روانہ کیا ہے جن میں 5 کی جانب سے بیالٹ پیپر پر انتخابات کی تائید کی گئی جبکہ 2 جماعتوں کے جواب غیر واضح رہے اور ایک جماعت نے ووٹنگ مشینوں کے ذریعہ انتخابات کی تائید کی ہے۔ 39 رجسٹرڈ جماعتو ںمیں 18 کی جانب سے جوابی مکتوب روانہ کیا گیا ہے جن میں 11 نے بیالٹ پیپر پر انتخابات کی تائید کی جبکہ 2 نے ووٹنگ مشینوں پر انتخابات کا مطالبہ کیا ہے ۔ 5جماعتوں کے جواب غیر واضح ہیں۔ بتایا گیا کہ جی ایچ ایم سی نے جملہ 50 جماعتوں کو مکتوب روانہ کئے تھے جن میں 26 نے جواب دیئے اور16 نے بیالٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات کے حق میں رائے دی ہے جبکہ 3 نے ووٹنگ مشین کے حق میں رائے دی اور 7 جماعتوں کا غیر واضح جواب ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کیلئے زیادہ عملہ درکار ہوگا اور مشینوں کی صفائی و دیگر امور کی انجام دہی کورونا دور میں ممکن نہیں ہے کیونکہ کئی افراد کے ایک جگہ ہونے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی حدود میں 7000مراکز رائے پر بیالٹ باکس سے ہی انتخابات کا فیصلہ کیا جاچکا ہے اور عہدیداروں جائزہ لے رہے ہیں کہ کیسے بیالٹ باکس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ الیکشن کمیشن اصولوں کے مطابق ایک مرکز رائے دہی پر 3بیالٹ باکس فراہم کئے جائیں گے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر مراکز رائے دہی کی تعداد میں اضافہ اور ہر مرکز رائے دہی پر ووٹرس کی تعداد کو گھٹا کر انہیں دوسرے مراکز رائے دہی میں منتقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔