جی ایچ ایم سی کا سال 2022-23 کا بجٹ تیار نہیں ہوسکا

   

ریاستی بجٹ کی منظوری تک تاخیر کا امکان ۔ اخراجات ‘ قرض اور سود کی ادائیگی اصل وجوہات

حیدرآباد۔27فروری(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا بجٹ 2022-23اب تک تیار نہیں کیا جاسکا ۔ کہا جا رہا ہے کہ ریاستی بجٹ 2022-23کی منظوری کے بعد ہی بلدیہ کا بجٹ تیار کیا جائے گا جبکہ سابق میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ ریاستی بجٹ کی منظوری کے بعد جی ایچ ایم سی کا بجٹ تیار کیا گیا ہو لیکن اس مرتبہ مختلف وجوہات کی بناء پر بلدیہ حیدرآباد کے بجٹ کی تیاری نہیں ہوپائی ہے جن میں اخراجات اور قرض کے بوجھ کے علاوہ سود کی ادائیگی شامل ہیں اسی لئے بجٹ کی تیاری نہیں کی جاسکی ہے۔ شہر کے ترقیاتی کامو ںکیلئے جی ایچ ایم سی کے منصوبوں پر عمل اور ان کیلئے قرض کے حصول و اخراجات کے متعلق تفصیلات کا حصول اب بھی باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کے روبرو بجٹ کی پیشکشی عام طور پر اسمبلی میں بجٹ کی پیشکشی سے قبل کی جانی چاہئے تاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے منظورہ بجٹ سے محکمہ فینانس آگاہ رہے لیکن بجٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں عدم پیشکشی سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت سے آئندہ ماہ کے اوائل یا وسط میں پیش ہونے والے ریاستی بجٹ سے قبل جی ایچ ایم سی کا بجٹ پیش نہیں کیا جائیگا ۔ جی ایچ ایم سی بجٹ کی منظوری کے بعد اسے حکومت کو روانہ کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے بلدیہ حیدرآباد کے بجٹ کی توثیق کی جائے پھر اس بجٹ کو منظوری حاصل ہوتی ہے ۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں بجٹ کی پیشکشی اور منظوری کے بعد تمام کارپوریٹرس کا اجلاس طلب کرکے بجٹ پر مباحث اور منظوری کا فیصلہ کیاجاتا ہے ۔ سال گذشتہ کورونا وباء کے سبب جی ایچ ایم سی کا بجٹ آن لائن پیش کیا گیا تھا اور اسے منظور کیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ تاحال بجٹ کی عدم تیاری پر کوئی بھی عہدیدار یا عوامی نمائندہ کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ جی ایچ ایم سی قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اس حالت میں فاضل آمدنی یا خسارہ کے بغیر بجٹ کی پیشکشی مشکل ہے اسی لئے عہدیداروں بالخصوص محکمہ فینانس اور بلدی نظم ونسق کے عہدیداروں سے مشاور ت کی جا رہی ہے تاکہ ان سے مشاورت کے بعد بجٹ کی تیاری عمل میں لائی جاسکے۔ذرائع کے مطابق محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں کی جانب سے محکمہ فینانس کے عہدیداروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی گئی ہے کہ وہ مالی سال2022-23میں جی ایچ ایم سی کو خصوصی بجٹ مختص کرنے کے اقدامات کریں۔