جی ایچ ایم سی کو پرانے شہر کے بہ نسبت نئے شہر سے کروڑہا روپیوں کے ٹیکس وصول طلب

   

ترقی اور توجہ کے معاملہ میں پرانا شہر نظرانداز، حکومت کا سوتیلا سلوک

حیدرآباد۔19 فروری(سیاست نیوز) معیاری بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد جن علاقوں پر توجہ مرکوز کیا ہوا ہوتا ہے اسی علاقہ سے جی ایچ ایم سی کو سب سے زیادہ جائیداد ٹیکس کے بقایاجات وصول طلب ہیں۔جی ایچ ایم سی کے عہدیدارشہر حیدرآباد میں بنجارہ ہلز ‘ جوبلی ہلز کے علاقوں کے مکینوں کے لئے سب سے بہتر اور معیاری سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کرتے ہیں لیکن اگران علاقوں کے جائیداد ٹیکس کے بقایاجاتا کا جائزہ لیا جائے تو خیر یت آباد زون کے مجموعی بقایاجات چارمینار زون سے وصول طلب بقایاجات سے تین گنا زیادہ ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کووصول طلب 407 کروڑ میں سب سے زیادہ خیریت آباد زون سے وصول طلب ہے اور اسی زون میں بنجارہ ہلز ‘ جوبلی ہلز کے علاوہ دیگر پاش علاقہ جات موجود ہیں ۔خیریت آباد زون میں وصول طلب جائیداد ٹیکس 161.4 کروڑ ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سکندرآباد زون ہے جہاں سے 70کروڑ روپئے وصول طلب ہیں اسی طرح شیرلنگم پلی زون سے بلدیہ کو جائیداد ٹیکس کی شکل میں 61 کروڑ سے زیادہ رقم وصول طلب ہے لیکن اس کے باوجود ان تینوں زون کی ترقی اور چارمینار زون کی ترقی کا مشاہدہ کیا جائے تو حالات انتہائی دیگر گوں ہیں ۔ چارمینار زون میں جائیداد ٹیکس بقایاجات 52 کروڑ وصول طلب ہیں جبکہ کوکٹ پلی زون سے 35.7 کروڑ اور ایل بی نگر زون سے 26 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر کے ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور صفائی کے امور کا خصوصی خیال رکھا جارہا ہے جن علاقوں سے جی ایچ ایم سی کو جائیداد ٹیکس بقایاجات وصول طلب زیادہ ہیں اور پرانے شہر کو مکمل طور پر ترقیاتی و صفائی امور میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے جبکہ پرانے شہر میں بلدیہ کے ٹیکس بقایاجات کی رقم محض 52 کروڑ ہے لیکن خیریت آباد زون جہاں کے مکین و جائیداد مالکین 161کروڑ بقایاجات اداشدنی ہیں انہیں جو سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے اس میں 25فیصد سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں بھی چارمینار زون میں اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ پرانے شہر کے ساتھ روا سلوک کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔