جیون ریڈی کی بی آر ایس میں شمولیت سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں

   

جگتیال کے قائدین کی چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات، 40 سال تک تائید کرنے والے کارکنوں سے دھوکہ
حیدرآباد ۔15۔ اپریل (سیاست نیوز) سینئر لیڈر جیون ریڈی کی 20 اپریل کو بی آر ایس میں شمولیت کے پس منظر میں جگتیال اسمبلی حلقہ کے سینئر کانگریس قائدین اور کارکنوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کی ۔ قائدین نے کہا کہ جیون ریڈی کے پارٹی چھوڑنے سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ضلع کے انچارج وزیر ٹی ناگیشور راؤ ، وزیر ایس سی بہبود اے لکشمن کمار ، رکن راجیہ سبھا وی نریندر ریڈی ، رکن اسمبلی جگتیال سنجے کمار ، صدر ضلع کانگریس نندیا اور دوسروں نے شرکت کی۔ قائدین نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں کانگریس حکومت نے جن فلاحی اسکیمات پر عمل کیا ہے، اس سے عوام مطمئن ہیں۔ قائدین کا کہنا تھا کہ جیون ریڈی نے عجلت میں پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کارکنوں کو مایوس کردیا جنہوں نے 40 برسوں تک ان کا ساتھ دیا تھا۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے کبھی بھی جیون ریڈی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی اور ہمیشہ ہر کسی نے ان کا احترام کیا۔ 2023 میں تمام قائدین نے ان کی کامیابی کیلئے مساعی کی تھی۔ پارلیمنٹ انتخابات میں کریم نگر سے مقابلہ کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے نظام آباد لوک سبھا حلقہ کا انتخاب کیا اور پارٹی نے ٹکٹ بھی دیا۔ لوک سبھا انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ بلدی انتخابات میں جیون ریڈی کے سفارش کردہ افراد کو پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا۔ پارٹی نے انہیں اور ان کے افراد خاندان کے بہتر سیاسی مستقبل کا بھروسہ بھی دلایا لیکن جیون ریڈی نے ضد کا رویہ اختیار کرتے ہوئے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 40 سال تک جن کارکنوں نے ساتھ دیا، ان سے جیون ریڈی نے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جیون ریڈی جیسی شخصیت کو کے سی آر کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا پڑے گا اور انہوں نے کارکنوں کی عزت نفس کو کے سی آر کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ ریونت ریڈی نے وضاحت کی کہ انہوں نے آج تک جیون ریڈی کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا ۔ چیف منسٹر نے کارکنوں سے کہا کہ وہ متحدہ رہیں اور جگتیال کی ترقی کیلئے حکومت ایکشن پلان تیار کرے گی۔1/k/m/b