نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جے للیتا کی نامعلوم ذرائع آمدنی سے حاصل اثاثہ جات کے کیس میں تحقیقات کی مدت کی خلاف ورزی ہونے کی وجہ سے ان کے اثاثوں کو واپس لینے کے لیے دائر درخواست کو آج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ن کی (جے للیتا) کی موت کی وجہ سے اس عدالت کے سامنے کارروائی ختم ہونے کا یہ نہیں ہے کہ اس کیس میں ان کو بری کردیا گیا ہے ۔جسٹس بی وی ناگارتھنا اور ستیش چندر شرما کی بنچ نے جے للیتا کے قانونی وارثوں میں سے ایک جے دیپا کی طرف سے دائر درخواست کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ یہ قابل غور نہیں ہے ۔عرضی گزار نے کرناٹک ہائی کورٹ کے 13 جنوری 2025 کے حکم اور اس سلسلے میں خصوصی عدالت کے 29 جنوری 2025 کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔درخواست گزار کی طرف سے بنچ کے سامنے پیش ہونے والے وکیل ایم ستیہ کمار نے اصرار کیا کہ محترمہ جے للیتا نے اپنی فلم اداکاری کے دوران حاصل کیے گئے سونے اور چاندی کے سامان اور ان کی والدہ کی طرف سے تحفے میں دیے گئے سامان کو واپس کیا جائے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ جائیدادیں تحقیقات کی مدت کے بعد حاصل کی گئ تھیں ۔اس پر بنچ نے کہاکہ ہمیں نہیں معلوم کہ آپ اس بات کی شناخت کیسے کریں گے کہ تحقیقات کی مدت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کون سی اشیاء حاصل کی گئیں۔عدالت نے بہرحال کہا کہ ان کے کیس میں سابقہ فیصلے نے نچلی عدالت کے فیصلے کو مکمل طور پر بحال کر دیا اور صرف ان کی موت نے کارروائی کو ختم کر دیا۔بنچ نے کہا کہ حکومت کرناٹک بمقابلہ جے ۔ جے للیتاکے کیس (2017) کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے مشاہدات کے پیش نظر کہ اس عدالت کے سامنے کی کارروائی روک دی گئی ہے ۔