واشنگٹن ۔ 23 ستمبر (ایجنسیز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت پولیٹیکو سے وائٹ ہاؤس تک رسائی واپس لے لی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد اس ادارے کو صحافتی فرائض کی انجام دہی سے روکنا نہیں ہے، بلکہ اس خصوصی رسائی کا خاتمہ کرنا ہے جو اس ادارے کو صدارتی کمپلیکس کے اندر حاصل تھی۔وینس نے کہا کہ انتظامیہ زیر بحث میڈیا ہاؤسز پر پابندی نہیں لگا رہی۔ واضح کیا کہ پولیٹیکو، سی این این اور ایم ایس ناؤ ابھی بھی ٹرمپ انتظامیہ کی کوریج کرنے، حکام سے رابطہ کرنے، عام معلومات اور رپورٹس حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں وائٹ ہاؤس کے اندر خصوصی رسائی حاصل نہیں ہوگی۔امریکی میڈیا کے حوالے سے دیئے گئے بیانات میں وینس نے مزید کہا کہ پولیٹیکو انتظامیہ کے بارے میں اپنے مضامین لکھنا جاری رکھے گا لیکن وائٹ ہاؤس کے نزدیک ایسی کوریج جسے وہ غیر منصفانہ یا پروپیگنڈا پر مبنی سمجھتا ہے، کے پیش نظر اسے دفتر اور خصوصی رسائی دینے کی کوئی جواز نہیں ہے۔وینس کا کہنا تھا کہ ریپبلکن انتظامیہ کو یہ پابند نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایسے میڈیا اداروں کو خصوصی مراعات فراہم کرے جو اس کے خیال میں ان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ رکھتے ہیں، انہوں نے اس سلسلے میں ماضی کی ڈیموکریٹک انتظامیہ کے ساتھ قدامت پسند میڈیا کے رویے کا حوالہ دیا۔نائب صدر نے نشاندہی کی کہ ان اداروں کی طرف سے ٹرمپ انتظامیہ کی کوریج کا ایک بڑا حصہ منفی رہا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ امریکی عوام کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ ان کے بقول یہ سیاسی پروپیگنڈا کے قریب ہے۔دوسری طرف اس فیصلے کے ناقدین کا ماننا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر سے اسناد اور دفتر کو واپس لینا عملی طور پر روزانہ کی بنیاد پر ایگزیکٹو برانچ کی خبروں کی کوریج کرنے کی صحافیوں کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے، چاہے ان اداروں کا باہر سے خبریں شائع کرنے اور کوریج کرنے کا حق برقرار کیوں نہ ہو۔