وندے ماترم عقیدہ توحید کے خلاف ، مرکزی قانون میں ترمیم کیلئے پروفیسر سلیم انجنیئر اور ملک معتصم خاں کا مطالبہ
حیدرآباد۔9 اگسٹ (سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ حب الوطنی کا معیار وندے ماترم نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی نے قومی وقار کی توہین بل 2026 پر نظرثانی کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی کے نائب صدور پروفیسر سلیم انجنیئر کو جناب ملک معتصم خاں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم سے متعلق بل کی منظوری تشویش کا باعث ہے۔ جماعت اسلامی ملک کے آئینی اداروں اور قومی وقار کے احترام پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ تاہم اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وندے ماترم اسلام کے عقیدہ توحید کے خلاف ہے۔ اس گیت میں وطن کو ایک معبود کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور بعض دیوی دیوتاؤں سے منسوب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے جمہوری اور آئینی نظام میں اس حقیقت کو پہلے ہی تسلیم کیا جاچکا ہے اور وندے ماترم پر اعتراضات نئے نہیں ہیں۔ ملک معتصم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایسا قانون منظور کیا گیا جو براہ راست مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو متاثر کرسکتا ہے اور ان میں کشیدگی کا اندیشہ ہے ۔ بل میں وندے ماترم کو گانے کو لازمی قرار نہیں دیا گیا لیکن اس کے خلاف کسی بھی ایسے عمل کو جرم قرار دیتے ہوئے توہین سمجھا جائے گا۔ اس قانون میں استعمال کی گئی اصطلاحات غیر واضح ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلہ میں واضح کیا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر قومی ترانے میں شریک نہ ہوں تو دستور میں دیئے گئے حقوق کے تحت وہ یہ حق استعمال کرسکتا ہے۔ حب الوطنی کا پیمانہ کسی مخصوص گیت ، نعرہ یا عمل میں شرکت نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ قانون پر نظرثانی کریں اور دستور میں دیئے گئے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ پروفیسر سلیم انجنیئر نے نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء معاملہ میں وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو ناکافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں 94 ہزار سرکاری اسکول بند ہوچکے ہیں۔ ہر روز اوسطاً 25 اسکول بند کئے گئے ۔ انہوں نے یونیورسٹیز اور تحقیقی اداروں کی گرانٹس میں کمی ، تعلیم اور خانگیانے ، اقلیتوں کے اسکالرشپ کے بجٹ میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسکالرشپ اور تعلیمی اسکیمات کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔سیلاب کی حالیہ صورتحال پر پروفیسر سلیم انجنیئر نے کہا کہ اڈیشہ ، گجرات ، آسام اورکیرالا میں سیلاب سے تباہی تشویش کا باعث ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور تنظیموں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ 1؍F