نئی دہلی، 6 اگست (یو این آئی) جماعت اسلامی ہند نے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے قومی وقار کی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری، ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات کی ضرورت اور مختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے وندے ماترم سے متعلق قومی وقار کی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملک کے آئینی اداروں اور قومی وقار کے احترام پر مکمل یقین رکھتی ہے ، تاہم یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ وندے ماترم کے وہ اشعار اسلام کے عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے ، جن میں وطن کو ایک معبود کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور اسے بعض دیویوں سے منسوب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتراض نہ تو نیا ہے اور نہ ہی فرقہ وارانہ ہے بلکہ ہندوستان کے جمہوری اور آئینی نظام میں اس حقیقت کو پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا ہے ۔ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ نہایت تشویشناک ہے کہ پارلیمنٹ نے ایسا قانون منظور کیا ہے جو براہ راست مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے اوران میں کشیدگی پیدا کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بل میں وندے ماترم گانے کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، لیکن اس کے خلاف کسی بھی ایسے عمل کو جرم قرار دیا گیا ہے جسے ‘ توہین ‘ یا ‘بے ادبی’ سمجھا جائے ۔
اس قانون میں استعمال کی گئیں مبہم اصطلاحات قانون کے غلط استعمال کا سنگین خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ ملک معتصم خاں نے سپریم کورٹ کے تاریخی بجوئے ایمانوئیل (Bijoe Emmanuel) فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قومی ترانے یا نغمے میں شریک نہ ہو تو آئین میں دئے گئے حقوق کے تحت اسے یہ حق حاصل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حب الوطنی کا پیمانہ کسی مخصوص گیت، نعرے یا علامتی عمل میں شرکت نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی ہند حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس قانون پر نظرثانی کی جائے اور اس میں واضح حفاظتی دفعات شامل کی جائیں تاکہ قومی علامات کے احترام کو برقرار رکھتے ہوئے آئین میں دی گئی ضمانت کی بنیاد پر حقوق اور شخصی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔