میساچوسیٹس : انتہائی خفیہ دستاویزات لیک کرنے کے ملزم میسا چوسٹس کے ایئرنیشنل گارڈزمین جیک ٹیکشیرا کو جمعے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوٹرز نے اس کے خلاف الزامات پیش کیے اور یہ بتایا کہ کس طرح ریکارڈ اور اس کے سوشل میڈیا کے ساتھیوں سے انٹرویوز کے ذریعہ اس لیک میں ملوث شخص کی نشاندہی میں مدد ملی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں چیٹ کے ایک پلیٹ فارم ’’ڈسکارڈ‘‘ سے ملنے والی معلومات کی مدد سے ایف بی آئی کو گارڈز مین جیک ٹیکشیرا تک پہنچنے میں مدد ملی۔گزشتہ ہفتہ جب میڈیا پر یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ خفیہ دستاویزات کو غیر محتاط انداز میں پھیلایا گیا ہے تو اس روز ٹیکشیرا نے اپنے سرکاری کمپیوٹر پر لفظ ’لیک‘ کے بارے میں سرچ کی۔ 22 جنوری 2021 کو فرانس کے شہر رینس میں لی گئی یہ تصویر ایک اسمارٹ فون اسکرین کو دکھاتی ہے جس میں میسجنگ سروس ایپلی کیشنز واٹس ایپ، سگنل، ٹیلی گرام، وائبر، ڈسکارڈ اور اولوڈ شامل ہیں۔ 22 جنوری 2021 کو فرانس کے شہر رینس میں لی گئی یہ تصویر ایک اسمارٹ فون اسکرین کو دکھاتی ہے جس میں میسجنگ سروس ایپلی کیشنز واٹس ایپ، سگنل، ٹیلی گرام، وائبر، ڈسکارڈ اور اولوڈ شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے لیک ہونے اور میڈیا پر پھیلنے سے امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی کیونکہ انتہائی حساس نوعیت کی دستاویزات سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتہ سے، جب سے یہ دستاویزات لیک ہوئی ہیں، بائیڈن انتظامیہ سفارتی اور فوجی محاذوں پر ممکنہ خراب نتائج کو کم کرنے کی کوشش میں مشکلات سے دوچار ہے اور اپنے اتحادیوں کو یقین دہانیاں کرا رہی ہے۔