حضرتِ عثمانِ غنیؓ حیا، سخاوت کا درخشاں باب

   

حافظ صابر پاشاہ

اسلامی تاریخ کے آسمان پر بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت، کردار اور خدمات رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ ان ہی مقدس اور جلیل القدر ہستیوں میں خلیفہ ثالث، امیر المؤمنین، حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نہایت درخشاں ہے۔ آپؓ وہ مبارک صحابی ہیں جنہیں قربِ مصطفیٰ ﷺ کا وہ عظیم شرف حاصل ہوا جو تاریخ انسانیت میں کسی اور کو نصیب نہ ہوسکا۔ آپؓ نے نہ صرف اسلام کی خدمت میں اپنی دولت، جان اور صلاحیتیں وقف کردیں بلکہ حیا، حلم، بردباری، سخاوت اور ایثار کی ایسی لازوال مثالیں قائم کیں جو قیامت تک اہلِ ایمان کیلئے مینارۂ نور بنی رہیں گی۔حضرت عثمانِ غنیؓ کا شمار ان خوش نصیب صحابۂ کرامؓ میں ہوتا ہے جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا ہوئی۔
حضرت عثمانِ غنی ؓکو وہ عظیم اور منفرد مقام حاصل ہے جو کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوا۔ آپؓ کو نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کا شرف حاصل ہوا۔ پہلے آپؓ کا نکاح حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، اور ان کے وصال کے بعد حضور اکرم ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی آپؓ سے فرما دیا۔روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:”اگر میری سو بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے سب کا نکاح عثمان سے کر دیتا، یہاں تک کہ سب ختم ہوجاتیں“۔
اسی بے مثال شرف اور سعادت کی بنا پر حضرت عثمانِ غنیؓ کو ”ذو النورین“ یعنی ”دو نور والے “ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز تاریخِ اسلام میں صرف آپؓ کے حصے میں آیا۔ حضرت عثمانِ غنیؓ کی سب سے نمایاں صفت حیا تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کے بارے میں فرمایا کہ فرشتے بھی عثمانؓ سے حیا کرتے ہیں۔حضرت عثمانِ غنیؓ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے والے عظیم ترین انسانوں میں سے تھے۔ جب مسلمانوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہوتا تو آپؓ اپنا مال بے دریغ اللہ کی راہ میں پیش کر دیتے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر آپؓ نے سینکڑوں اونٹ، گھوڑے اور بے شمار مال پیش کرکے اسلامی لشکر کی مدد فرمائی۔ اس موقع پر حضور اکرم ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا:”آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“۔مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی ضرورت کیلئے بئر رومہ خرید کر وقف کرنا اور مسجد نبویؐ کی توسیع کیلئے زمین خرید کر دینا بھی آپؓ کی عظیم خدمات میں شامل ہے۔حضرت عثمانِ غنیؓ ۲۴ ہجری میں منصبِ خلافت پر فائز ہوئے۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود وسیع ہوئیں اور امن و استحکام کو فروغ ملا۔ آپؓ کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ قرآنِ مجید کو ایک رسم الخط اور ایک قرا ءت پر جمع کرکے پوری اُمت تک پہنچانا ہے۔ حضرت عثمانِ غنیؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری اور آخرکار راہِ حق میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ۱۸ ذوالحجہ ۳۵؁ ہجری کو آپؓ نے حالتِ روزہ میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہوئے شہادت پائی۔ آپؓ کی یہ شہادت امتِ مسلمہ کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک مگر عظیم باب ہے، جو صبر، استقامت اور دین پر ثابت قدمی کا درس دیتا ہے۔حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیاتِ مبارکہ ایمان، حیا، سخاوت، خدمتِ دین اور اطاعتِ رسول ﷺ کا حسین نمونہ ہے۔ آج امتِ مسلمہ اگر آپؓ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کرے تو معاشرے میں اخوت، محبت، ایثار اور خیرخواہی کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔ حضرت عثمانِ غنیؓ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ دولت، اقتدار اور عزت کی اصل قدر اسی وقت ہے جب انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی خدمت کیلئے استعمال کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ سے سبق حاصل کرنے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔