رمنا ، نرسمہلو اور پیدی ریڈی کا مستقبل خطرہ میں، کوشک ریڈی کی ایم ایل سی نشست پر سوالیہ نشان
حیدرآباد۔/7 نومبر، ( سیاست نیوز) حضورآباد ضمنی چناؤ کے نتیجہ نے ایک طرف ٹی آر ایس قائدین کیلئے مسائل میں اضافہ کردیا ہے تو دوسری طرف الیکشن سے عین قبل ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کو اُن کا مستقبل خطرہ میں دکھائی دے رہا ہے۔ حضورآباد میں کامیابی کیلئے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا گیا اور دلت طبقہ کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حضورآباد کے الیکشن کے لئے کے سی آر نے تلگودیشم سے وابستہ رہے تین قائدین کو پارٹی میں شامل کیا جو سابق میں ان کے کٹر نقاد رہ چکے ہیں۔ تلنگانہ تلگودیشم کے صدر ایل رمنا نے صدارت چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ ان کے علاوہ سابق وزراء ایم نرسمہلو اور ای پیدی ریڈی نے بھی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ پیدی ریڈی تلگودیشم سے بی جے پی میں شامل ہوچکے تھے جبکہ ایم نرسمہلو نے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ تلنگانہ میں اپنے سیاسی مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے پیدی ریڈی نے بی جے پی چھوڑ دی جبکہ ایم نرسمہلو دلت ووٹ دلانے کیلئے کے سی آر کی اپیل پر ٹی آر ایس میں شامل ہوئے۔ شمولیت کے وقت کے سی آر نے تینوں تلگودیشم بیاک گراؤنڈ رکھنے والے قائدین کو غیر معمولی اہمیت دی اور یہ قیاس آرائیاں کی جانے لگیں کہ نرسمہلو کو دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری کیلئے خصوصی ادارہ قائم کرتے ہوئے صدر نشین مقرر کیا جائے گا اور انہیں کابینی درجہ دیا جائے گا۔ تلگودیشم بیاک گراؤنڈ والے یہ قائدین پُرامید تھے کہ نتیجہ کے بعد انہیں اہم عہدے حاصل ہوسکتے ہیں۔ پیدی ریڈی اور ایل رمنا کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ ٹی آر ایس سے وابستہ قائدین کو اس بات پر حیرت ہوئی کہ کے سی آر کیوں ان قائدین کو اہمیت دے رہے ہیں حالانکہ انہیں عوامی تائید حاصل نہیں ہے۔ حضورآباد کے نتیجہ کے فوری بعد یہ تینوں قائدین پارٹی حلقوں میں ’’ آئرن لیگ ‘‘ کے طور پر مشہور ہوچکے ہیں۔ ٹی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ ان تینوں کی پارٹی میں شمولیت کے بعد حضورآباد میں فائدہ کے بجائے الٹا نقصان ہوا اور یہ ٹی آر ایس کیلئے منحوس قدم ثابت ہوئے۔ کئی قائدین کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ اگر کانگریس اور تلگودیشم بیاک گراؤنڈ کے قائدین کو شامل نہ کیا جاتا تو حضورآباد کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ کچھ یہی حال کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے کوشک ریڈی کا ہے۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں کوشک ریڈی نے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا لیکن اس مرتبہ انہوں نے پارٹی سے انحراف کرلیا۔ حضورآباد کے نتیجہ کے بعد باہر سے آنے والے قائدین کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ گورنر نے پہلے ہی کوشک ریڈی کو ایم ایل سی کی رکنیت پر اعتراض جتایا اور ان کی فائیل ابھی بھی راج بھون میں زیرالتواء ہے۔ نتیجہ کے بعد پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ کوشک ریڈی کی کونسل کی رکنیت بھی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ر