جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر جدوجہد ضروری، تلنگانہ سے ناانصافی پر ہم نے تحریک شروع کی تھی
حیدرآباد۔/22 مارچ، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی حلقوں کی ازسرنوحد بندی جنوبی ریاستوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگی جس کو جنوبی ریاستیں ہرگز قبول نہیں کریں گی۔ چینائی میں منعقدہ کُل جماعتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ مرکزی حکومت جنوبی ہند سے مسلسل جانبداری برت رہی ہے جس کی وجہ سے جنوبی ہند کی ریاستیں ترقی اور فلاحی اسکیمات سے محروم ہورہی ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 14 سال تک کے سی آر کی قیادت میں علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک چلائی گئی۔ جانبداری، سوتیلا سلوک کیا ہوتا ہے تلنگانہ کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔ تحریک کے دوران دہلی میں عددی طاقت کی وجہ سے متحدہ آندھرا پردیش کی قیادت میں تلنگانہ کی تحریک کو کچلنے کی ہرممکن کوشش کی گئی ، ہم نے ہمارے حقوق کیلئے ہر مصیبت کو برداشت کیا اور ہماری اس جدوجہد میں ٹاملناڈو کی تحریک مثالی ثابت ہوئی اور ہم نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرلی۔ ہم دنیا کی بہت بڑی جمہوریت میں ہیں ، ملک کی ترقی مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن وزیر اعظم جمہوریت کی روح کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ شمالی ہند کی ریاستوں کو ترقی دی جارہی ہے اور فنڈز دیئے جارہے ہیں، اسکیمات دی جارہی ہیں پراجکٹس دیئے جارہے ہیں لیکن جنوبی ہند کی ریاستوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے جبکہ معاشی ترقی میں جنوبی ریاستیں ملک کیلئے رول ماڈل ہیں۔ مرکزکے سوتیلے سلوک کی وجہ سے جنوبی ہند کی ریاستوں کو نقصان ہورہا ہے۔ ملک کی جی ڈی پی میں 36 فیصد حصہ داری جنوبی ہند سے حاصل ہوتی ہے۔ حلقوں کی ازسرنوحد بندی کرنے سے جنوبی ہند کو صرف پارلیمانی نشستوں سے نقصان نہیں ہوگا بلکہ معاشی طور پر بھی بہت بڑا نقصان ہوگا۔ فنڈز کی فراہمی میں مرکزی حکومت مزید ناانصافی کرے گی لہذا وہ تمام جنوبی ہند کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جماعتی وابستگی سے بالاترہوکر مرکز کی اس تجویز کے خلاف جدوجہد کریں۔2