حکومت تلنگانہ کے پاس آئندہ ماہ تنخواہوں کی اجرائی کیلئے بجٹ نہیں !

   

تلنگانہ کو بانڈس کے ہراج اور قرض کے حصول کیلئے مرکز کی اجازت نہیں، صورتحال مزید ابترہونے کا اندیشہ
حیدرآباد۔25۔مئی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے پاس آئندہ ماہ تنخواہوں کی اجرائی کے لئے بجٹ نہیں ہے! ریاستی حکومت کی معاشی ابتری اور مرکزی حکومت کی جانب سے قرض کے حصول پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد ریاستی حکومت کے مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہاہے او رکہا جا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام پر تنخواہوں کی اجرائی ریاستی حکومت کے لئے مسئلہ بن سکتی ہے۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں ماہ اپریل کی تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں ہونے والی مشکلات کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کرتے ہوئے ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور اب مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو بانڈس کے ہراج اور قرض کے حصول کی اجازت نہ دیئے جانے کے بعد صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے اورکہاجا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ جات کو اپنی آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ تنخواہوں کا انتظام کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کی مالی حالت کے متعلق وزارت بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ محکمہ کی جانب بلدیات اور ادارہ جات مقامی کو اپنی آمدنی میں اضافہ کے لئے کہہ دیا گیا تھا اسی طرح محکمہ کمرشیل ٹیکس‘ محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے عہدیدارو ںکو بھی اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے محکمہ جات کی آمدنی میں اضافہ کو یقینی بناتے ہوئے تنخواہوں کی ادائیگی کے انتظامات کریں۔محکمہ فینانس کے ذرائع کے مطابق ریاستی محکمہ فینانس میں کئی وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کی فائیلیں زیر التواء ہیں جن کی منظوری کی جانی باقی ہے۔ اسی طرح مختلف محکمہ جات سے وظیفہ پر سبکدوش ہونے والوں کو وظیفہ کے فوائد کی اجرائی بھی ہونی باقی ہے لیکن معاشی صورتحال کے سبب انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دینے والوں کی بھی کئی شکایات زیر التواء ہیں لیکن ان کی شکایات کی یکسوئی کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مختلف محکمہ جات میں ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے ریاست کے مالی حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔ محکمہ جات کے ملازمین کی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہاہے لیکن انہیں توقع ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تنخواہوں کی اجرائی میں تاخیر کے ذریعہ ہلچل پیدا کرنے کے بجائے ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کی اجرائی کے اقدامات یقینی بنائیں جائیں گے۔ م