حکومت کا کالج سرویس کمیشن تشکیل دینے پر غور

   

محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تقررات کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی مساعی ، محکمہ تکنیکی تعلیم سے رپورٹ طلب
حیدرآباد ۔ 18 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت انٹر ، ڈگری ، ٹکنیکل یونیورسٹی اس طرح تمام اعلیٰ تعلیم کے تقررات کو ایک چھتری کے تلے لاتے ہوئے تقررات کرنا چاہتی ہے ۔ جن کے لیے کالج سرویس کمیشن تشکیل دینے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ حکومت نے اس سلسلے میں محکمہ ٹکنیکل ایجوکیشن کے عہدیداروں کو جامع تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت نے پہلے ہی ایجوکیشن کمیشن تشکیل دے دیا ہے ۔ جس کے بعد کالج سرویس کمیشن تشکیل دینے کی سمت قدم بڑھا رہی ہے ۔ ریاست میں 11 یونیورسٹیز ہیں ان کے دائرہ کار میں تمام تقررات متعلقہ یونیورسٹیز مشترکہ نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے کرتی ہیں ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں اس پالیسی کے خلاف کئی الزامات عائد ہوئے جس کے بعد اس میں چند تبدیلیاں کرتے ہوئے کامن ریکروٹمنٹ بورڈ تشکیل دیا گیا ۔ دوسری جانب انٹر ، ڈگری کالجس میں لکچرارس کا پبلک سرویس کمیشن تقررات کرتی ہے ۔ گروپس اور دیگر امتحانات کے انعقاد کی ذمہ داری پبلک سرویس کمیشن کے دائرہ کار میں ہیں ۔ لکچررس اور پروفیسرس کا تقرر بھی اس کی ذمہ داری ہے جس سے پبلک سرویس کمیشن پر اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ امتحانات سے متعلق سوالیہ پرچوں کی تیاری ، امتحانات کے انعقاد سے بھی کمیشن پر کام کا بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ امتحانات کے انعقاد اور تقررات میں تاخیر ہورہی ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کالج سرویس کمیشن تشکیل دیا گیا تھا ۔ کالجس میں تدریسی اور غیر تدریسی مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کمیشن کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے ۔ کمیشن کی نگرانی میں کمیٹی امتحانات کا انعقاد کرتی ہے ۔ 1985 میں اس کمیشن کو منسوخ کردیا گیا تھا ۔ جس کے بعد تمام تقررات کی ذمہ داری پبلک سرویس کمیشن کے حوالے کی گئی تھی ۔ حکومت دوبارہ کالج سرویس کمیشن تشکیل دیتے ہوئے اس کو مکمل اختیارات دینے کا منصوبہ تیار کررہی ہے ۔ خانگی کالجس اور یونیورسٹیز میں نا اہل فیکلٹی کا تقرر کرنے کے الزامات ہیں ۔ خانگی کالجس کے تقررات کا کالج سرویس کمیشن جائزہ لے سکتی ہے ۔ دوسری جانب حکومت ریاست کے 9 پولی ٹکنیک کالجس کو انجینئرنگ کالج کے طور پر اپ گریڈ کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں ۔ تکنیکی تعلیم کے تقررات بھی کالج سرویس کمیشن کے دائرہ کار میں شامل کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔۔ 2