آصف سابع کی درخواست کو حکومت نے منظور کیا تھا ۔ راجیہ سبھا میں تفصیل بتائی گئی
حیدرآباد15جنوری(محمد مبشر الدین خرم ) حکومت ہندنے آصف جاہ ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کو انضمام حیدرآباد کے بعد بھی سلطنت آصفیہ کے آخری فرمارواں کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا اور گزٹ جاری کیا گیا تھا 2جون 1967 کو اس وقت کے وزیر داخلہ وائی بی چوان نے رکن راجیہ سبھا اے ۔ ڈی منی کے سوال کے جواب میں تفصیلات سے ایوان کو واقف کرویا تھا کہ جون 1954 کو نظام دکن نے حکومت ہندکو روانہ مکتوب میں یہ خواہش کی تھی کہ ان کی زندگی میں انہوں نے اپنے پوترے نواب میر برکت علی خان کو جانشین مقرر کیا ہے انہیں ریاست دکن کا فرمارواں تسلیم کیا جائے۔ آنجہانی وی بی چوان نے بتایا کہ 1964 میں حکومت نے اس درخواست کو قبول کرکے ایک معاہدہ نواب میر عثمان علی خان بہادر سے کیا تھا ۔ 24فروری 1967خسرؤ دکن نواب میر عثمان علی خان کی رحلت کے بعد صدر جمہوریۂ ہند نے نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کو ہندوستان کے دستور کی دفعہ 366(22)کے تحت ریاست دکن کے فرمارواں کا درجہ عطا کیا تھا۔راجیہ سبھا کی کاروائی کے مشاہدہ کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر انضمام کے بعد بھی فرمارواں ریاست حیدرآباد کے طور پر حکومت ہند سے قبول کئے گئے تھے ۔آصف جاہ ثامن کی جانشینی کی رسم 6اپریل 1967کو ادا کی گئی تھی اور وہ سلطنت آصفیہ کے آخری فرمارواں کا اعزازنومبر 1971 تک رکھے ہوئے تھے لیکن اس کے بعد حکومت ہند کی جانب سے اعزازات کو برخواست کردیئے جانے کے بعد وہ قانونی اعتبار سے فرماروان ریاست دکن کے اعزاز سے معزول ہو گئے ۔ مکرم جاہ بہادر کے حکومت وقت اور حکمرانوں سے کافی گہرے مراسم تھے اور وہ گاندھی خاندان سے کافی قریب سمجھے جاتے تھے۔م