ایس آئی آر ‘ فارمس تقسیم کرنے کی مہلت ختم ‘ پرنٹنگ میں تاخیر نے شیڈول کو بگاڑ دیا، ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن مہم کو تیز کرنے میدان میں اُتر گئے
حیدرآباد : 3جولائی ( سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کردہ ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی (SIR) کا عمل اضلاع حیدرآباد ۔ رنگاریڈی اور میڑچل میں انتہائی سست روی اور انتظامی انتشار کا شکار ہوگیا ہے ۔ ایک گراؤنڈ رپورٹ کے مطابق جہاں اضلاع نلگنڈہ ، کمرم بھیم آصف آباد جیسے قریبی اضلاع میں فارمس تقسیم کا عمل 99فیصد تک مکمل ہوچکا ہے ، وہیں اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل میں الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم تقسیم کرنے کی جو مہلت دی گئی تھی وہ جمعہ کی شام ختم ہوجانے کے باوجود اب تک 50فیصد کا نشانہ بھی پورا نہیں کیا جاسکا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع میڑچل میں 44فیصد اور ضلع رنگاریڈی میں صرف 44.6 فیصد فارمس تقسیم ہوپائے ۔ انگریزی فارمس کی پرنٹنگ میں تاخیر سے شہر حیدرآباد میں سروے کے آغاز سے قبل جب سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی تھی ۔ مسلم آبادی اور شمالی ہندوستانی ووٹرس کی بڑی تعداد کے پیش نظر مطالبہ کیا گیاتھا کہ فارم انگریزی زبان میں بھی فراہم کئے جائیں ۔ ضلعی انتخابی عہدیداروں نے اس سلسلہ میں ریاستی الیکشن کمیشن سے باقاعدہ اجازت لے کر انگریزی فارم منظور کروالئے لیکن ان انگریزی فارمس کی پرنٹنگ اور سپلائی میں ہونے والی غیرمعمولی تاخیر نے پوری مہم کے شیڈول کو بگاڑ کر رکھ دیا جس کے نتیجہ میں پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں یاقوت پورہ ، چندرائن گٹہ کے علاوہ شہر کے دیگر اسمبلی حلقوں کے کئی مقامات پر ووٹرس کو فارمس دستیاب نہیں ہوئے ۔ فارمس کی عدم موجودگی سے BLOS عوام کے نظروں سے اوجھل ہوگئے ، کئی مقامات پر فارمس تاخیر سے پہنچے ہیں ۔ ضلع رنگاریڈی میں جہاں 4062 پولنگ بوتھ اور 47,36,669 ووٹرس موجود ہیں وہاں بی ایل اوز کے گھر گھر نہ جانے کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں ۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ کئی BLOS ووٹرس کے گھروں پر جانے کی زحمت کرنے کی بجائے مقامی سیاسی قائدین کے گھروں ، پارٹی دفاتر اور کمیونٹی ہالس میں بیٹھ کر من مانی طریقے سے فارم تقسیم کررہے ہیں جس کی وجہ سے عام شہری وہاں جانے سے کترا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ جن خاندانوں نے مکانات تبدیل کرلئے ہیں یا جو لوگ روزگار کیلئے دور گئے ہیں انہیں انیومیریشن فارم نہیں مل پارہے ہیں ، کیوکہ وہاں دروازہ بند ملنے یا فیملی کے موجود نہ ہونے پر بی ایل اوز دوبارہ چکر نہیں لگارہے ہیں جس کے باعث پرانے شہر کے علاقوں میں ووٹرس کی شناخت انتظامیہ کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ۔ ووٹر لسٹوں کی اس سنگین سست روی کو دیکھتے ہوئے جی ایچ ایم سی کمشنر و حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن خود پچھلے دو دن سے فیلڈ پر موجود ہیں ۔ انہوں نے زونل کمشنرس کو بھی میدان میں اترنے کی سخت ہدایت دی ہے جس کے بعد کئی علاقوں میں بی ایل اوز صبح 7 بجے سے ہی گھر گھر فارمس بانٹنا شروع کردیا ہے ۔ قوانین کے مطابق (SIR) مہم کے تحت ووٹ کا اندراج کرنے والوں سے فارم 6کے ساتھ ایک ڈیکلریشن لیا جانا لازمی ہے لیکن زمینی سطح پر اس ضابطے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ جب شہریوں کی جانب سے بی ایل اوز کو ’ فارم 6 ‘ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ حیران کن جواب دیا کہ وہ فی الحال صرف SIR فارم ہی تقسیم کررہے ہیں ، انہیں الیکشن کمیشن سے اس کے علاوہ دوسرے اور کوئی فارم وصول نہیں ہوئے ۔ فارم 6 معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا ، BLOs کی اس لاپرواہی نے نئے ووٹرس کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کردیئے ۔2