2 جون کو ایف سی ڈی اے کے دفتر کا افتتاح، چیف منسٹر کی خصوصی نگرانی
حیدرآباد ۔27۔ مئی (سیاست نیوز) ریاست کی کانگریس حکومت نے فیوچر سٹی کی تعمیر کیلئے ماسٹر پلان تیار کرلیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ویژن کے مطابق اس فیوچر سٹی کو شہری اور صنعتی ترقی کے ایک عالمی مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ یہ نیا فیوچر سٹی مجموعی طور پر 30 ہزار ایکر اراضی پر محیط ہوگا جس میں سے 15 ہزار ایکر رقبہ فاریسٹ اور گرین زون کیلئے مختص رہے گا جبکہ مابقی 15 ہزار ایکر اراضی پر جدید ترین فیوچر سٹی بسایا جائے گا۔ حکومت نے اس ماحولیاتی دوست شہر کو منظم انداز میں تیار کرنے کیلئے اسے 11 مختلف زونس میں تقسیم کیا ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 13610 ایکر اراضی مختلف شعبوں کیلئے باقاعدہ طورپر مختص کردی گئی ہے۔ ماسٹر پلان کے تحت اراضی کی زون واری سطح پر تقسیم انتہائی جامع انداز میں کی گئی ہے۔ اس فیوچر سٹی میں سب سے بڑا حصہ لائیف سائنسیس ہب کے لئے مختص کیا گیا ہے جس کے تحت بلاک 22 میں سب سے زیادہ 4000 ایکر اراضی فراہم کی جائے گی ۔ اس کے بعد شہریوں کی رہائش کیلئے بلاک 1.17.18 میں 2,477 ایکر پر جدید رہائشی کامپلکس تعمیر کئے جائیں گے ۔ الیکٹرانکس ، اڈوانس مینوفیکچرنگ اور فرنیچر پارک کے لئے بلاکس 4 سے 9 کے تحت 2,177 ایکڑ زمین دی گئی ہے۔ اسی طرح گرین اینرجی اور الیکٹرانک وہیکلس کو فروغ دینے کیلئے بلاک 21 میں 1,976 ایکر پر ای وی اور اینرجی پارک بنے گا۔ تعلیمی انقلاب کیلئے بلاک 2 میں 255 ایکر پر بین الاقوامی معیار کی ایجوکیشن یونیورسٹی اور بلاک 3 میں 313 ایکر پر جدید ترین ڈیٹا سنٹر قائم کیا جائے گا جبکہ تفریح و سیاحت کیلئے بلاک 19 اور 20 میں 667 ایکر رقبہ تفریحی مرکز کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ اس میگا پراجکٹ کی نگرانی اور تیز رفتار ترقی کیلئے قائم کردہ فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا مرکزی دفتر آئندہ 2 جون کو تلنگانہ یوم تاسیس کے موقع پر باقاعدہ کام شروع کردے گا۔ حکومت نے میر خاں پیٹ میں ایف سی ڈی اے دفتر کیلئے 7.29 ایکر اراضی مختص کی ہے۔ یہ ہیڈکوارٹر 16.393 مربع فٹ کے رقبہ پر محیط ایک شاندار G+1 منزلہ عمارت ہوگی جسے بین الاقوامی گرین بلڈنگ کے معیارات کے مطابق ماحولیات دوست طریقہ سے تعمیر کیا جارہا ہے ۔ اس جدید ترین دفتر میں کارپوریٹ طرز کا ایک بڑا کانفرنس ہال اور ایک جدید تجربہ گاہ مرکز بھی بنایا جارہا ہے جہاں فیوچر سٹی کے پورے 3D ماڈل اور ترقیاتی ماحول کی نمائش کی جائے گی۔ حکومت کا مقصد اس نئے شہر میں تعلیم ، صحت، کھیل ، ڈیٹا سنٹر، آرٹیفشل انٹلیجنس اور ہیلت سٹی جیسے تمام جدید شعبوں کو ایک جگہ کرنا ہے۔ امنگل اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں تک پھیلے اس پراجکٹ کے ذریعہ لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی خود اس پراجکٹ کی پیشرفت کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے حکام کو سخت ہدایت دی ہے کہ 2 جون کو دفتر کے افتتاح کے ساتھ ہی تمام زونس میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کردیا جائے۔ یہ پراجکٹ آنے والے دنوں میں تلنگانہ کو عالمی نقشہ پر ایک مینوفیکچرنگ اور ٹکنالوجی لیڈر کے طورپر پیش کرے گا۔2/k/m/b