حیدرآباد میٹرو ریل کا پہلا مرحلہ معاشی بدحالی کا شکار

   

دوسرے مرحلہ کے لیے حکومت تلنگانہ کوشاں ، قرض کی ادائیگی تک مرکز سے منظوری کا بھروسہ نہیں
حیدرآباد۔24۔جون(سیاست نیوز) حیدرآبا دمیٹرو ریل کا مرحلہ اول معاشی بدحالی کا شکار بنا ہوا ہے اور حکومت میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کی منظوری کے لئے کوشاں ہے!حکومت تلنگانہ نے ایل اینڈ ٹی سے میٹرو ریل مکمل طور پر حاصل تو کرلی ہے لیکن اس کے بعد حیدرآباد میٹرو ریل کو منافع بخش ادارہ بنانے میں اب بھی ناکام ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے لئے مرکز سے تعاون حاصل کرنے کی کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک ریاستی حکومت مرکزی وزارت ریلوے سے پہلے مرحلہ کے میٹرو ریل کی تعمیرات اور ترقی کے لئے حاصل کی گئی قرض کی رقومات واپس نہیں کی جاتی ۔میٹرو ریل کے عہدیداروں نے بتایا کہ حیدرآباد میٹرو ریل کے موجودہ سفر کو جاری رکھنے میں ہونے والی دشواریوں کے نتیجہ میں ریاستی حکومت فوری طور پر انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن کے ذریعہ حاصل کئے گئے قرض واپسی کے موقف میں نہیں ہے۔بتایا جاتاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے لئے مرکزی حکومت شراکت داری کے لئے تیار ہے لیکن فنڈس کی اجرائی کے معاملہ میں سردمہری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں ماہرین و عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میٹرو ریل کے پہلے مرحلہ کی تعمیر و ترقی کے لئے انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن کی جانب سے حاصل کئے گئے 13ہزار 600 کروڑ کی ادائیگی تک دوسرا قرض حاصل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ میٹرو ریل کے ذرائع کے مطابق فی الحال ریاستی حکومت اس خطیر قرض کا سود ادا کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہی ہے کیونکہ میٹرو ریل کو چلانے کے باوجود اس سے ہونے والی آمدنی محدود ہے۔ بتایاجاتاہے کہ حیدرآباد میٹرو ریل کومسافرین کو فروخت کئے جانے والے ٹکٹ کے علاوہ میٹرو اسٹیشنوں پر اشتہارات کے علاوہ جن مقامات کو میٹرو ریل کی جانب سے ترقی دیتے ہوئے کرایہ پر دیا گیا ہے ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کے علاوہ کوئی اور ذرائع نہیں ہیں اور اس آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کی مختلف وجوہات ہیں اسی لئے حیدرآباد میٹرو ریل خسارے میں ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے دورہ ٔ دہلی کے دوران شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کی منظوری کے لئے کی جانے والی کوششوں کے دوران بھی حکومت کو ان مسائل کا ہی سامنا کرنا پڑا ۔میٹرو ریل کارپوریشن کے عہدیداروں کے مطابق حکومت تلنگانہ کے لئے حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ اور تیسرے مرحلہ کے لئے مرکزی فنڈس حاصل کرنے کے علاوہ قرض کے حصول کی کوششیں بھی رائیگاں ثابت ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ میٹروریل کے پہلے مرحلہ کو منافع بخش بنانے میں ہونے والی ناکامی کے نتیجہ میں دوسرے اور تیسرے مرحلہ کے لئے فنڈس کا حصول ریاستی حکومت کے لئے انتہائی پیچیدہ مسئلہ بنتا جا رہاہے ۔3/m/b