حیدرآباد کی مارکٹ میں بے نشان اور بنگاناپلی آم دستیاب

   

150 تا 400 روپئے فی کیلو فروخت ، یومیہ 10 تا 80 کنٹل آم درآمد
حیدرآباد ۔ 27 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد میں عام طور پر پھلوں کا بادشاہ آم کی آمد جنوری کے آخری میں شروع ہوتی ہے اور جولائی کے پہلے ہفتے تک جاری رہتی ہے ۔ شہر میں آم معمول سے تھوڑا جلدی پہنچ گئے ہیں ۔ یہ عام کیرالا ریاست سے چھوٹے پیمانے پر پہنچے ہیں۔ یہ آم شہر بھر کی منڈیوں میں 150 سے 400 روپئے فی کیلو کے درمیان فروخت ہوتے ہیں ۔ فی الحال شہر کے بازاروں میں صرف دو قسم کے آم ’ بے نشان ‘ اور ’ بنگا ناپلی ‘ دستیاب ہیں ۔ پھل کی کٹائی کا موسم مارچ اور جون کے درمیان ہوتا ہے اور اس عرصے کے آس پاس شہر میں آندھرا پردیش ، کرناٹک ، مہاراشٹرا ، اترپردیش اور گجرات سے آموں سے لدے ٹرک آتے ہیں ۔ اس ماہ کے آغاز سے ہی آم کی آمد شروع ہوگئی تھی ۔ روزانہ 10 سے 80 کنٹل آم مارکٹ میں آرہے ہیں ۔ محدود آمد کی وجہ سے قیمتیں زیادہ ہیں ۔ اور جنوری کے آخر تک اس طرح قیمتیں رہیں گے ۔ کیرالا میں آم کا موسم دسمبر کے وسط میں یا جنوری کے پہلے ہفتہ سے شروع ہوتا ہے اور مئی کے ماہ تک جاری رہتا ہے ۔ کسان پھلوں کو ان تاجروں کو فروخت کرتے ہیں جو اسے دوسری ریاستوں کو سپلائی کرتے ہیں ۔ آم کی آمد کے ساتھ ہی اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور جیسے جیسے آم کی مختلف قسم کی آمد ہوتی ہے ویسے ہی قیمتوں میں کچھ حد تک کمی آتی ہے ۔ شہر کی منڈیوں میں مختلف قسم کے آم جو سب سے زیادہ پسند کئے جاتے ہیں وہ حمایتی ، پدا رسال ، چنا رسال ، دیسری ، نیلم ، ملیکا ، سندری ، پنڈاری ، اپوس ، لال باغ ، بے نشان ، طوطا پری اور دیگر قسم کے آم ہیں ۔ شہر میں آم عام سیزن میں 70 روپئے تا 150 روپئے فی کیلو فروخت ہوتا ہے ۔۔ ش