حیدرآباد کے سید مصطفیٰ ہاشمی کو یو پی ایس سی میں 162 واں رینک

,

   

آئی پی ایس میں شمولیت یقینی، والدین کی محنت اور دعائیں کامیابی کی ضامن
( محمد ریاض احمد )
حیدرآباد ۔ 30 مئی ۔کسی بھی امتحان میں کامیابی کیلئے انسان کا خود محنت کرنا اس انسان کو کامیابی کیلئے ماں باپ کا تیار کروانا خاص طور پر اولاد کو زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھانے والدین کا اہم کردار ادا کرنا بہت ضروری ہے اور آج تک دنیا میں جن شخصیتوں کو عظیم قرار دیا گیا ہے جن کی عظمت کو دنیا سلام کرتی ہے ان کی کامیابیوں کو ان کے عظیم شخصیت بننے میں ماں و باپ دونوں کا اہم کردار ہے ۔ ان زرین خیالات کا اظہار یونین پبلک سرویس کمیشن کے اعلان کردہ نتائج میں قومی سطح پر 162 واں مقام اور مسلم امیدواروں میں تیسرا مقام حاصل کرنے والے ڈاکٹر و حافظ سید مصطفیٰ ہاشمی نے روزنامہ ’سیاست‘ و سیاست ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کیا ۔ واضح رہے کہ یو پی ایس سی امتحانات 2021ء میں 685 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا جن میں 22 مسلم امیدوار شامل ہیں ۔ اس مرتبہ اگرچہ 100 سرفہرست امیدواروں میں کوئی مسلم امیدوار شامل نہیں ہے ، اس کے باوجود جن مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی انکی کامیابیوں کو غیرمعمولی کہا جاسکتاہے ۔ اریبہ نعمان نے 109 رینک حاصل کیا جبکہ مسلم امیدواروں میں دوسرا مقام محمد صبور خان (125 رینک) نے حاصل کیا ۔ ایک سوال کے جواب میں سید مصطفیٰ ہاشمی نے جو سائنس و ٹکنالوجی اور جنرل نالج کے بے شمار عالمی اور قومی مقابلے جیتے ہیں ۔ بتایا کہ وہ بہت چھوٹے تھے کہ ان کے دادا جان سید سعادت ہاشمی نے ان کے ذہن میں ایک بات بٹھائی تھی کہ آئی اے ایس بنو گے تو ملک و ملت کی بڑے پیمانے پر مدد کرنے عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے عوام کی مصیبتوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کا موقع ملے گا ۔ چنانچہ جب انہوں ( مصطفیٰ ہاشمی) نے ایم بی بی ایس پھر ایم ڈی کیا تب سوچا کہ عوام کو صرف صحت کا مسئلہ ہی درپیش نہیں ہے بلکہ کئی اور شعبے ہیں جہاں عوام کی مدد کی جاسکتی ہے ۔ سید مصطفیٰ ہاشمی نے بتایا کہ اپنی کامیابی کیلئے وہ سب سے پہلے بارگاہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس بات کیلئے بھی اللہ عزوجل کے دربار میں شکر بجالاتے ہیں کہ اللہ نے انہیں ایسے ماں باپ عطا کئے جنہوں نے ہمیشہ ان کی اور ان کے بھائیوں اور بہن کی دینی و بنیادی تربیت کا خصوصی خیال رکھا ۔ واضح رہے کہ سید مصطفیٰ ہاشمی کے بھائی اور ایک بہن بھی ڈاکٹر ہیں اور خدمت خلق میں مصروف ہیں ۔ ان کے والد انجنیئرسید خالد ہاشمی کربی کنسٹرکشن گروپ کے وائس پریسیڈنٹ ہیں جبکہ والدہ عاصم النساء نے ریاضی اور سائنس میں ایم ایس سی کیا ہے ۔ مصطفیٰ ہاشمی کے مطابق ان کی والدہ ہمیشہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتی رہی جبکہ مشرق وسطیٰ میں پرکشش ملازمت کو خیرباد کہتے ہوئے ان کے والد انجنیئر سید خالد ہاشمی صرف حیدرآباد اس لئے واپس ہوئے کہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔ یاد رہے کہ مصطفیٰ ہاشمی کی ابتدائی تعلیم مشرق وسطیٰ میں ہوئی ، بعد میں انہوں نے لٹل فلاور اسکول میں داخلہ لیا اور 10 ویں جماعت کا امتحان ٹاپ کیا ۔ چیتنیہ سے انٹر کیا اور پھر عثمانیہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ موبائیل فونس پر کھیلوں سے دور رہے ۔ ہمیشہ باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں یہ تذکرہ ضروری ہوگا کہ مصطفیٰ ہاشمی نے ایم بی بی ایس کے بعد ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خان سے ملاقات کی تھی ، تب جناب زاہد علی خان نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ آئی اے ایس بننے کی کوشش کریں ، تب انہوں نے کہا تھا کہ ایم ڈی کرنے کے بعد یو پی ایس سی امتحان لکھیں گے ۔ اہم بات یہ ہے کہ مصطفیٰ ہاشمی کی طرح ان کی اہلیہ بھی حافظہ اور ڈاکٹر ہیں ۔ سید مصطفیٰ ہاشمی نے روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کے ذریعہ نوجوانوں کو یہ پیام دیا کہ تعلیم کے ساتھ دین پر بھی توجہ دیں اور ماں باپ کی دعائیں حاصل کریں ۔ کیونکہ والدین کی دعائیں انسان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں ۔