خاندانی حکمرانی سے تلنگانہ کو نجات دلانے عوام سے نریندر مودی کی اپیل

,

   

صرف ایک خاندان خوشحال، تلنگانہ میں بی جے پی کا اقتدار یقینی، توہم پرستی سے حکومت کو بچانا ممکن نہیں، بی جے پی کارکنوں سے وزیراعظم کا خطاب
حیدرآباد۔26۔ مئی (سیاست نیوز) وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ میں بی جے پی کے اقتدار کو یقینی قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ تلنگانہ کو خاندانی حکمرانی اور خوشامد پسندی کی سیاست سے آزاد کریں۔ ایک روزہ دورہ پر حیدرآباد پہنچنے کے بعد بیگم پیٹ ایرپورٹ پر وزیراعظم نے بی جے پی کارکنوں سے خطاب کیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں بی جے پی کارکنوں نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ریاستی حکومت اور خاص طور پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک کو خاندانی جماعتوں سے نجات دلانے کی ضرورت ظاہر کی ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی ترقی کیلئے پریوار وادی پارٹیوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے تلنگانہ عوام سے اپیل کی کہ وہ وراثت کی سیاست اور خاندانی پارٹیوں کے خلاف تحریک جاری رکھیں تاکہ ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کی راہ ہموار ہوسکے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں تبدیلی یقینی ہے اور بی جے پی برسر اقتدار آئے گی ۔ وزیراعظم نے بی جے پی کارکنوں کے جوش و خروش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود کارکنوں کا جوش و خروش یہ ظاہر کر رہا ہے کہ سخت محنت ضرور رنگ لائے گی۔ نریندر مودی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت چاہتی ہے کہ تلنگانہ کو دل جوئی اور خوش کرنے کی سیاست کا مرکز بنائیں جبکہ ہم تلنگانہ کو ٹکنالوجی ہب میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ خاندانی حکمرانی جاری رکھنا چاہتے ہیں جبکہ ہم تلنگانہ کو 21 ویں صدی میں ترقی کی بلندی پر لے جانا چاہتے ہیں جہاں نوجوانوں کا مستقبل تابناک ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے ملک کو تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ پر حکمرانی کا خواب دیکھا تھا ، ان کی سازش نہ ہی آزادی کے وقت کامیاب رہی اور نہ اب کامیاب ہوگی۔ بی جے پی ایسی سازشوں کے خلاف جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران خوشحال تلنگانہ کیلئے ہزاروں افراد نے جدوجہد کی اور قربانیاں پیش کیں۔ یہ جدوجہد صرف ایک خاندان کی بھلائی اور حکمرانی کیلئے نہیں تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کسی ایک خاندان کی پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا، کرپشن اس کی اہم شناخت بن گیا۔ تلنگانہ کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ایک خاندانی پارٹی نے خود کو ترقی دی ہے۔ انہوں نے صرف اپنے ارکان کے جیب بھرنے کی کوشش کی ہے جبکہ انہیں غریبوں سے کوئی مطلب نہیں۔ خاندانی پارٹیوں کی سیاست کا واحد مقصد خاندان کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اور سماج کو منقسم کرتے ہوئے لوٹ کھسوٹ مچانا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سماج ہمیشہ پسماندہ رہے اور فائدہ صرف ان کو ہو۔ وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت نے کئی مرکزی اسکیمات کے ناموں کو تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ آپ بھلے ہی نام تبدیل کرسکتے ہیں لیکن عوام کے دلوں سے ہمارے نام کو مٹا نہیں سکتے۔ بی جے پی تلنگانہ اور اس کے عوام کی صلاحیت اور طاقت سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ ریاست تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ تلنگانہ کو ایک ترقی پسند اور دیانتدار حکومت کی ضرورت ہے اور صرف بی جے پی اسے فراہم کرسکتی ہے۔ وزیراعظم نے توہمات پر بھروسہ کرنے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اورکہا کہ ہم تلنگانہ کو توہم پرست افراد سے بچانا چاہتے ہیں۔ 21 ویں صدی میں وہ اندھے عقائد کے غلام بن چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس وقت وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے ، بعض لوگوں نے کہا کہ اگر چیف منسٹر فلاں مخصوص شہر کا دورہ کریں گے تو وہ اقتدار سے محروم ہوجائیں گے۔ میں نے بارہا اس شہر کا دورہ کیا کیونکہ میں توہمات میں نہیں بلکہ سائنس وٹکنالوجی میں یقین رکھتا ہوں۔ وزیراعظم نے توہم پرستی کو مسترد کرنے پر چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ کو مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم نے 2013 ء کے جلسہ عام کی یاد تازہ کی اور کہا کہ حیدرآباد میں نئی تاریخ رقم کی تھی اور سارے ملک کے ذہن کو تبدیل کردیا تھا جب مجھے سننے کیلئے جلسہ عام میں ٹکٹ خرید کر آئے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بی جے پی کو تلنگانہ میں برسر اقتدار لاتے ہوئے عوام پھر ایک بعد نئی تاریخ لکھیں گے۔ وزیراعظم نے کے سی آر حکومت پر کرپشن کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سارا ملک دیکھ رہا ہے کہ عوام کس طرح پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں کو تلنگانہ میں سیاسی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ پر خصوصی شامیانے میں وزیراعظم کے ہمراہ مرکزی وزیر کشن ریڈی ، بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کے علاوہ رگھونندن راؤ ، ڈاکٹر لکشمن ، جتیندر ریڈی ، رام چندر راؤ اوردیگر قائدین موجود تھے ۔ ر