ماہ جون سے ہی فیس کی ادائیگی کیلئے انتظامیہ کا دباو ۔ آن لائین تعلیم ستمبر سے شروع ہوئی
حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے 21 اپریل کو جی او آر ٹی نمبر 46 کی اجرائی کے ذریعہ ریاست کے خانگی تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی سال 2020-21کے دوران فیس میں کوئی اضافہ نہ کریں اور نہ سہ ماہی یا سالانہ فیس وصول کریں بلکہ ماہانہ صرف ٹیوشن فیس وصول کی جائے اور جن خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے ان احکام کی خلاف ورزی کی جائے گی ان کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیا جائے گا۔شہر کے بیشتر سرکردہ خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے سال گذشتہ کے فیس بقایاجات کی وصولی کی جا رہی ہے اور جاریہ سال فیس میں اضافہ نہ کرنے کی ہدایات کو نظر انداز کرکے دوسرے طریقوں سے فیس کی وصولی کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔کئی اسکولوں میں کمپیوٹر لیاب کی سہ ماہی فیس کو ماہانہ فیس میں منقسم کرکے ٹیوشن فیس میں ضم کردیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ بعض اسکولوں میں سہ ماہی تفریحی فیس کے علاوہ ٹرم فیس کو بھی ماہانہ اقساط میں شامل کرکے ٹیوشن فیس میں شامل کرلیا گیا ہے جو والدین اور سرپرستوں کیلئے درد سر ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں درپیش مالی مسائل کے حل کے لئے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ والدین اور سرپرستوں کی جانب سے شکایت کی جا رہی ہے کہ اسکول انتظامیہ ان حالات میں دباؤ ڈال کر مکمل فیس وصول کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ریاست کے اسکولو ں میں فیس کی ادائیگی انتہائی تکلیف دہ مسئلہ ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا ناگزیر ہے کیونکہ تجارتی ذہنیت کے حامل ادارو ںکے انتظامیہ کی کاروائیاں والدین اور باشعور طلبہ کو بدظن کررہی ہیں جبکہ تعلیم کی فراہمی کو مشن کی حیثیت سے انجام دینے والے اداروں کی حالت بھی غیر ہوتی جارہی ہے۔تعلیمی اداروں اور والدین و سرپرستوں کی جانب سے محکمہ تعلیم عہدیداروں سے اس بات کا استفسارکیا جا رہاہے کہ تعلیمی سال 2020-2021 کی فیس کب سے ادا کرنی ہوگی جبکہ حکومت کی جانب سے تعلیمی سال کے آن لائن آغاز کی تاریخ یکم ستمبر ہے لیکن بیشتر اسکول انتظامیہ کی جانب سے ماہ جون سے ہی فیس وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق شہر کے کئی اسکولوں کے خلاف محکمہ تعلیم کو شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن وہ بھی ان کے خلاف کاروائی کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ اسکولوں کے ذمہ داروں کی جانب سے یہ جواز پیش کیا جا رہاہے کہ ان کے اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست میں جب تک اسکولوں میں باضابطہ تعلیم کا آغاز نہیں کیاجاتا اس وقت تک اسکولوں کی مالی حالت کے علاوہ اسکولوں کیلئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی ممکن نہیں ہے جبکہ والدین اور سرپرستوں کاکہناہے کہ جی او پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔