خانگی اسکولس میںفیس کو باقاعدہ بنانے سے حکومت کا گریز

   

ہائیکورٹ سے ہدایت کے چھ ماہ بعد بھی متعلقہ حکام نے کوئی پیشرفت نہیں کی

حیدرآباد11ڈسمبر(سیاست نیوز) خانگی اسکولوں میں فیس کو باقاعدہ بنانے حکومت سے تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود کوئی پیشرفت نہ کئے جانے کے سبب تلنگانہ کے خانگی اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے والدین و سرپرستوں کی تنظیم نے جلد ہی ہائی کورٹ میں تحقیر عدالت کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ کہا جا رہاہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایات کے 6ماہ کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں میں فیس کو باقاعدہ بنانے کوئی اقدامات نہ کئے جانے پر ناراض والدین و سرپرستوں کی تنظیموں نے فیصلہ کیا کہ حکومت کے محکمہ تعلیم کو تحقیر عدالت کی نوٹس جاری کرکے عدالت میں درخواست داخل کی جائے گی کیونکہ خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے من مانی فیس کی وصولی کی شکایات کے بعد حیدرآباد اسکول پیرنٹس اسوسیشن نے ہائیکورٹ سے رجوع ہو کر شکایت کی کہ حکومت سے نمائندگی کے باوجود خانگی اسکولس میں فیس کو باقاعدہ بنانے کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی ہے جس پر ہائی کورٹ نے مقدمہ کی سماعت کے بعد حکومت کو ہدایت دی تھی کہ اندرون 2ماہ خانگی اسکولوں میں فیس کو باقاعدہ بنانے اقدامات کو یقینی بنائے لیکن محکمہ تعلیم نے 6ماہ گذر جانے کے باوجود کوئی پہل نہیں کی ہے جس کے نتیجہ میں صورتحال غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے اور خانگی اسکول انتظامیہ کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت سے اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے مسائل کے حل سے متعلق خاموشی سے مایوس اولیائے طلبہ نے عدالتی احکام پر عمل کیلئے دوبارہ عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ۔ کہا جار ہا ہے کہ متعلقہ محکمہ جات کو تحقیر عدالت کی نوٹس جاری کی جائے گی اور تحقیر عدالت کا مقدمہ دائر کرنے اقدامات سے اولیائے طلبہ کیلئے راحت کی کوشش کی جائیگی۔م