خسرو منزل کے انہدام پر اندرون چار ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت

   

تہذیبی ورثہ کے تحفظ میں ناکامی پر تلنگانہ ہائیکورٹ کی سخت برہمی

حیدرآباد۔19۔جون(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے شہر میں موجود تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے سلسلہ میں ناکامی پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ’’خسرو منزل‘‘ انہدام اور اس کی جگہ تعمیر کی جانے والی ہمہ منزلہ عمارت کے سلسلہ میں اندرون 4ہفتہ جواب داخل کرنے کی حکومت کو ہدایت دی ہے ۔23 مارچ 1998 کو جاری کردہ جی او نمبر 102میں خسرو منزل آثار قدیمہ کے تحت محفوظ عمارتوں کی فہر ست میں شامل ہے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے عدالت میں داخل کردہ ایک درخواست مفاد عامہ کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ستیش چندرشرمااور جسٹس ابھینندن کمار شاولی نے پرنسپل سیکریٹری ریاستی محکمہ بلدی نظم ونسق کے علاوہ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ کمشنر حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی اور کمشنر پولیس حیدرآبادکو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون 4ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اے سی گارڈ‘ لکڑی کا پل پر واقع خسرو منزل کو منہدم ہونے سے بچانے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں داخل کی گئی درخواست میں درخواست گذار نے عدالت سے اس بات کی شکایت کی کہ مجاز عہدیدارو ںاور حکومت کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی اور اجازت ناموں کی اجرائی کے سبب آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل اس عمارت کو تباہ کیا جا رہاہے۔ خسرو منزل 1920 میں تعمیر کی گئی عمارت ہے اور اس عمارت کے تحفظ کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود بلدی عہدیدارو ںاور ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ لاپرواہی کے رویہ کی وجہ سے اس تاریخی عمارت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ خسرو منزل کے انہدام اور اس کی جگہ ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں سیاسی اثر و رسوخ کا سہارا لیا جا رہاہے اور سیاسی سرپرستی کے حامل بلڈرس نے موسم باراں اور تعطیلات کو نظر میں رکھتے ہوئے عمارت کے قدیم ڈھانچہ کو مکمل طور پر مٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ چند فرلانگ کے فاصلہ پر موجود ریاستی بلدی نظم ونسق کے دفتر کی موجودگی کے باوجود اس عمارت کی انہدامی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور کئی مرتبہ شکایت کے بعد عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیاگیا ۔محترمہ انورادھا ریڈی جو کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں خدمات انجام دینے والی تنظیم انٹیک کی جہدکار ہیں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی لاپرواہی کے سبب شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے شہریوں کو عدالت سے رجوع ہونا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے دواخانہ عثمانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت جو فن تعمیر کا شاہکار ہے اسے منہدم کرنے کے لئے آمادہ ہوچکی تھی اور اب خسرو منزل کو برباد کیا جا رہاہے۔مسٹر اروند کمارپرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق نے انٹیک کو اس بات کا تیقن دیا تھا کہ خسرو منزل محفوظ زمرہ میں شامل ہے اور ان کے محکمہ کی جانب سے انہدام کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مسز انورادھا ریڈی نے شہر کی محفوظ تاریخی عمارتوں کی فہرست کو ویب سائٹ پر رکھنے کا مطالبہ کیا۔م