اورنگ آباد ۔ 19 نومبر (سیاست ڈا ٹ کام) ایک ایسے وقت جب مہاراشٹرا کے خشک سالی سے متاثرہ اضلاع کے کسانوں کو شدید مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں عثمان آبادی بکریاں 2500 سے زائد کسان خاندانوں کو روزگار کی فراہمی کا سبب بن رہی ہیں۔ دراصل خشک سالی کی وجہ سے پریشان کسانوں نے اب بکریوں کے دودھ سے صابن سازی کا کام شروع کردیا ہے۔ ایک غیرسرکاری تنظیم جس کی مدد سے مہاراشٹرا کے ضلع عثمان آباد کے 25 سے زائد مواضعات کے کسان صابن ساز بن گئے ہیں۔ ’’شیور سنستھا‘‘ کے سی ای او ونائیک ہیگنا نے بتایا کہ یہ پراجکٹ خشک سالی سے متاثرہ ایسے کسانوں کیلئے شروع کیا گیا ہے جو مالی پریشانی کے سبب خودکشی کے مرتکب ہورہے ہیں اور جنہیں شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجائے انہیں مالی مدد کرنے کے انہوں نے انہیں روزگار حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ ونائیک نے کہا کہ ہم نے انہیں سکھایا کہ عثمان آبادی بکریوں کو فروخت کرنے کے بجائے ان ہی بکریوں سے کس طرح وہ اپنے لئے روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ اگریکلچر گریجویٹ ہیگنا نے بکریوں کے دودھ سے حاصل ہونے والے فوائد پر خاصہ تحقیق کی اور بتایا کہ انہوں نے اس میں وٹامن اے اور وٹامن ای، سلینیم اور الفا ہیڈروچی ایسیڈس کا پتہ چلایا جو جلدی بیماریوں کیلئے کافی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے جاریہ سال جولائی میں اسے پیٹنٹ کرایا اور اس کے بعد فوراً صابن کا پروڈکشن شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال کسانوں کو ان کے بکریوں کے دودھ کیلئے فی لیٹر 300 روپئے ادا کئے جاتے ہیں جبکہ صابن سازی کے ذریعہ وہ مزید 150 روپئے یومیہ کماتے ہیں۔ فی الحال کم از کم 250 خاندانوں کے 1400 بکریاں اس کام کیلئے استعمال کی جارہی ہیں جس میں مزید 10,000 خاندانوں کو شامل کرنے کی کوشش چل ررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ پراجکٹ قومی اور بین الاقوامی مارکٹ میں رسائی کی کوششوں میں مصروف ہے۔