حیدرآباد ۔24 ۔ جون (سیاست نیوز) سعودی عرب میں مقیم تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم کے دوران ان کے رائے دہی کے حق کا تحفظ کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ سعودی عرب میں مقیم تلگو ریاستوں کے ورکرس اور دیگر باشندوں نے ایس آئی آر مہم کے
دوران فہرست رائے دہندگان سے ناموں کے حذف ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ سعودی عرب تلگو اسوسی ایشن کی جانب سے آندھراپردیش اور تلنگانہ حکومتوں سے نمائندگی کی گئی۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی ورکرس ایس آئی آر مہم کی تفصیلات سے لاعلم ہیں۔ آندھراپردیش میں 14 جولائی اور تلنگانہ میں 24 جولائی تک فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کی جائے گی۔ سعودی عرب تلگو اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری مزمل شیخ نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے تقریباً 8 تا 10 لاکھ افراد خلیجی ممالک میں بستے ہیں، ان میں سے زیادہ تر SIR مہم کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت میں غفلت کے نتیجہ میں غیر مقیم ہندوستانی ووٹ دینے کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔ اسوسی ایشن نے تلنگانہ اور آندھراپردیش کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ غیر مقیم ہندوستانیوں کے حق رائے دہی کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر غیر مقیم ہندوستانی، ورکرس کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں اور وہ الیکشن کمیشن کے آن لائین سسٹم سے واقف نہیں ہیں۔ ان ملازمین کو دو سال میں ایک مرتبہ چھٹی ملتی اور وہ اپنے وطن پہنچ کر ایس آئی آر مہم میں حصہ لینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اسوسی ایشن نے غیر مقیم ہندوستانیوں میں شعور بیداری مہم کے تحت ایس آئی آر کی تفصیلات سے واقف کرایا ہے ۔ اسوسی ایشن نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ غیر مقیم ہندوستانیوں کیلئے عہدیداروں کی جانب سے ورچول سمینار کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ آن لائین ناموں کی شمولیت کے طریقہ کار سے واقف ہوسکیں۔1/k
بوئن پلی میں SIR پروگرام میں مسلم خاتون کو دیکھ کر
بی جے پی کارکنوں کی شرانگیزی، کانگریس ورکرس کا احتجاج
حیدرآباد۔ 24 جون (سیاست نیوز) مسلم خاتون کو دیکھ کر جے شری رام کے نعرے لگانے والے بی جے پی کارکنوں کو کانگریس کی خاتون ورکرس نے منہ توڑ جواب دیا۔ سکندرآباد کے علاقہ بوئن پلی کے کمیونٹی ہال میں تمام سیاسی پارٹیوں سے وابستہ کارکن جمع تھے۔ اسی دوران ایک برقعہ پوش خاتون کو دیکھ کر شرانگیزی کی گئی تاہم مسلم خاتون نے انکا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دیگر غیر مسلم کانگریسی خواتین بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئیں اور بی جے پی کارکنوں کیخلاف سخت احتجاج کیا۔ کانگریس کی غیر مسلم کارکنوں نے کہا کہ ہم سب آپس میں بہنیں ہیں اور ہر مذہب کے لوگ آپس میں بھائی چارہ سے شامل ہوئے ہیں۔ کانگریس کی غیر مسلم خواتین نے اپنی ساتھی مسلم خاتون کے خلاف زہر افشانی کا منہ توڑ جواب دیا اور بی جے پی کارکنوں کو آئندہ ایسی حرکت کیخلاف سخت نتائج کا انتباہ دیا۔