کانگریس پر نریندر مودی کے الزامات مسترد، ہنمنت راؤ اور فیروز خاں کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس قائدین نے وزیر اعظم نریندر مودی پر خواتین تحفظات مسئلہ پر قوم کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ نریندر مودی نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم سے زیادہ بی جے پی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ قائدین نے کہا کہ وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا کہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے بھیس میں سیاسی تقریر کریں۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، صدر ضلع کانگریس کمیٹی خیریت آباد روہت مدیراج اور نامپلی انچارج محمد فیروز خاں نے وزیر اعظم کی تقریر پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دستوری ترمیم کی ناکامی کو نریندر مودی خواتین تحفظات بل کی ناکامی قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں 2023 میں خواتین تحفظات بل منظور کرلیا گیا ہے اور حکومت اگر سنجیدہ ہے تو لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں میں خواتین کو 33 فیصد تحفظات فراہم کرے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ خواتین تحفظات کی آڑ میں مودی حکومت او بی سی تحفظات کو ختم کرنے کی سازش کے تحت دستوری ترمیم چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حد بندی اور نشستوں کی تعداد میں اضافے کے لئے ویمنس ریزرویشن کو دستوری ترمیم سے جوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ خواتین تحفظات کی نہ صرف تائید کی بلکہ پنچایت راج اداروں میں 33 فیصد تحفظات کا سہرا کانگریس کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری ترمیم کو انڈیا الائنس کی تمام پارٹیوں نے متحدہ طور پر شکست دی ہے جو لوک سبھا کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام دستوری ترمیم کے پس پردہ حکومت کی سازش سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وزیر اعظم اور بی جے پی قائدین کی جانب سے کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیوں کے خلاف مہم بے اثر ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دستوری ترمیم کی آڑ میں او بی سی تحفظات کو ختم کرنے کی سازش تھی۔ 1؍F ؍M