طلباء و طالبات کو احساس کمتری سے محفوظ رہنے کا مشورہ
سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کا ورکشاپ ،طلباء و طالبات سے سعیداحمد کا خطاب
حیدرآباد ۔ 6 اگست (سیاست نیوز) دنیا میں کچھ کر دکھانے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانے اپنی اہمیت تسلیم کروانے کیلئے کسی بھی قوم میں خوداعتمادی، خودانحصاری، عزت نفس اور غیرت و حمیت کا ہونا اور احساس کمتری سے محفوظ رہنا ضروری ہے۔ اگر ہماری قوم کے بچوں، بچیوں میں خوداعتمادی پیدا ہوجائے اور عزت نفس کب ہوتی ہے اس کے بارے میں سمجھ جائیں تو وہ باآسانی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبہ میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نونہالان ملت کی شخصیت سازی کیلئے ملک گیر شہرت رکھنے والے جناب سعید احمد نے دفتر سیاست کے محبوب حسین جگر آڈیٹوریم میں ’’اپنا مقام پیدا کر‘‘ کے زیرعنوان منعقدہ ورکشاپ سے خطاب میں کیا۔ یہ ورکشاپ خصوصی طور پر نویں تا بارہویں جماعت کے طلباء و طالبات کیلئے ادارہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ نے کیا تھا۔ منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیرالدین علی خان نے خیرمقدمی تقریر کرتے ہوئے جناب سعیداحمد کا تعارف کرایا۔ اس موقع پر سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین، رکن مجلس عاملہ فیض عام ٹرسٹ جناب سید حیدر علی، ٹرسٹ کی مشیر محترمہ یاسمین ریاض اور جناب بشیرالدین فاروقی سابق ڈپٹی ڈی ای او بھی موجود تھے۔ تقریباً تین گھنٹوں تک جناب سعید احمد نے اپنے خطاب کے ذریعہ طلباء اور اولیائے طلبہ کو باندھے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ میں ڈسپلن پیدا ہوجائے تو خودبخود آپ میں خوداعتمادی پیدا ہوگی۔ عزت نفس کے معنی و مطالب کی تہہ تک آپ پہنچ جائیں گے۔ تب کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ تعلیم یہ نہیں کہ اس میں بچوں سے ان کا بچپن اور بڑوں سے ان کا سکھ چھین لیا جائے بلکہ تعلیم بچوں میں پائی جانے والی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے مادری زبان کی اہمیت و افادیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ جو قوم اپنی زبان کٹواتی ہے (یعنی مادری زبان سے دوری اختیار کرتی ہے) تاریخ میں ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ خواب آپ کی مادری زبان میں ہی آتے ہیں انگریزی میں نہیں۔ اپنی مادری زبان کے ذریعہ دوسری زبانیں باآسانی سیکھی جاسکتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور وائسرائے کے درمیان مترجم کے ذریعہ ہوئی بات چیت سے متعلق ایک واقعہ سنایا اور بتایا کہ جب مترجم نے مولانا کے کلمات کی غلط ترجمانی کی تب انہوں نے اسے ٹوک دیا کہ میں نے جو کہا آپ نے اس کا انگریزی ترجمہ بالکل غلط کیا۔ وائسرائے کو کچھ الگ بتایا تب وائسرائے نے مولانا آزاد سے کہا ’’مولانا آپ انگریزی جانتے ہیں پھر بھی اردو میں بات کرتے ہیں؟ تب مولانا نے جواب دیا آپ ہزار میلوں دور سے آکر بھی انگریزی میں بات کرتے ہیں کیا میں اپنے ملک میں رہ کر اپنی مادری زبان میں بات نہ کروں؟ واضح رہیکہ پونے سے تعلق رکھنے والے جناب سعید احمد رہبر فاؤنڈیشن کے صدر بھی ہیں، گذشتہ 19 برسوں سے ملک کی تقریباً 20 ریاستوں کے 450 سے زائد شہروں اور اضلاع میں شخصیت سازی پر ورکشاپس کا اہتمام کرچکے ہیں۔ ملک و بیرون ملک بشمول سعودی عرب، دبئی، بحرین ان کے 2000 سے زائد پروگرامس ہوچکے ہیں۔ آج کے ورکشاپ میں طلبہ نے بھی اظہارخیال کرتے ہوئے ادارہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں سکریٹری فیض عام جناب افتخار حسین کے شکریہ پر ورکشاپ کا اختتام عمل میں آیا۔