مشرقی وسطیٰ کی جنگ سے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء میں خلل
حیدرآباد ۔ 2 مئی (سیاست نیوز) مشرقی وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کا براہ راست اثر اب ہندوستانی عوام کے کچن پر پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی حالات اور حمل و نقل کے اخراجات میں اضافے کا بہانہ بنا کر خوردنی تیل (کوکنگ آئیل) کی قیمتوں میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 22 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے عام آدمی کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سن فلاور کا تیل فی کلو 180 روپئے سے بڑھ کر 200 روپئے ہوگیا۔ مونگ پھلی کا تیل 130 روپئے سے بڑھ کر 160 روپئے فی کیلو ہوگیا۔ سویابین کا تیل 150 روپئے سے بڑھ کر 170 روپئے فی کیلو ہوگیا۔ سرسوں کا تیل 130 روپئے سے بڑھ کر 150 روپئے فی کیلو ہوگیا۔ ونسپتی کا تیل 130 روپئے سے بڑھ کر 160 روپئے فی کیلو ہوگیا۔ رائس براؤن کا تیل 150 روپئے سے بڑھ کر 165 روپئے ہوگیا۔ مونگ پھلی کا تیل (5 کیلو کا کین) 1000 روپئے سے بڑھ کر 1150 روپئے ہوگیا۔ مونگ پھلی کا تیل (15 کیلو) 2300 روپئے سے بڑھ کر 2400 روپئے ہوگیا۔ ایک طرف کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے ہوٹلوں، ریستوران کا کھانا مہنگا کررہا ہے تو دوسری طرف اب گھروں میں استعمال ہونے والے تیل کی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کا جینا مشکل کردیا ہے۔ تاجروں کی جانب سے پیدا کی گئی مصنوعی قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہیکہ محکمہ سیول سپلائز اور پیمائش اوزان کے متعلقہ عہدیدار فوری طور پر مارکٹ کا معائنہ کریں اور ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کریں جو جنگ کا بہانہ بناکر ناجائز منافع خوری کررہے ہیں۔H/2