نوجوان کھیل کود سے محروم ، تاریخی گراونڈ کی تزئین نو کرنے کی ضرورت
حیدرآباد۔8۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) نوجوانوں نسل کو اگر کھیل کود کے میدان فراہم نہ کئے جائیں اور ان سے اس بات کی شکایات کی جائیں کہ وہ موبائیل میں مصروف رہتے ہوئے اپنے اوقات خراب کر رہے ہیں یا چبوتروں پر آوارہ گردی میں مصروف ہیں۔ نوجوان نسل میں بگاڑ پر قابوپانے کے لئے یہ لازمی ہے کہ انہیں کھیل کود کی سرگرمیوں کے لئے سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جائے لیکن شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں موجود کھیل کے میدانوں کو تباہ کیا جا رہاہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔پرانے شہر میں موجود خورشید جاہ میدان کی خستہ حالت کے نتیجہ میں یہ کھیل کا میدان استعمال کے قابل نہیں رہا اور اس میدان کو ناقابل استعمال بنانے کی منظم سازش کی جا رہی ہے جبکہ خورشید گراؤنڈ کی ایک اپنی طویل تاریخ رہی ہے کیونکہ اس میدان میں نہ صرف کرکٹ کے میاچ ہوا کرتے تھے بلکہ کرکٹ کوچنگ کے لئے اس میدان کے استعمال کے علاوہ ملک کے سرکردہ فٹبال کھلاڑی بھی اس میدان میں تربیت حاصل کرنے کے علاوہ تربیت کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں لیکن اس تاریخی میدان کی اب جو صورتحال ہے وہ انتہائی افسوسناک ہوچکی ہے کیونکہ یہ میدان اب کسی کھیل کود کی سرگرمیوں کے لئے باقی نہیں رہا بلکہ جابجا گڑھوں کے نتیجہ میں اس میدان کا استعمال ہی بند ہوچکا ہے ۔پرانے شہر کے علاقہ شاہ گنج میں واقع خورشید جاہ میدان میں واقع خورشید جاہ کی دیوڑھی کی تزئین نو اور خوبصورتی میں اضافہ کے لئے ریاستی حکومت نے 12 کروڑ کی منظوری کے ذریعہ مرمتی کام انجام دئیے جا رہے ہیں لیکن اگر حکومت یا مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے محض 2 کروڑ روپئے خورشید جاہ گراؤنڈ پر خرچ کرتے ہوئے اسے ترقی دینے کے اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس میدان میں مورم اندازی اوربہتر روشنیوں کا انتظام کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ میدان کھیل کود کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے ۔ خورشید جاہ گراؤنڈ کی اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میدان میں تربیت حاصل کرنے والے کئی کرکٹ کھلاڑی اور فٹبال کھلاڑی ہیں جنہوں نے ملک بھر میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں ہیں اور اس میدان میں جہاں ایک سے زائد کرکٹ کلب چلائے جاتے تھے وہیں فٹبال کی تربیت کے لئے بھی اس میدان کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ خورشید جاہ گراؤنڈ کی موجودہ حالت کے سلسلہ میں مقامی عوام کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کے کسی محلہ میں اس قدر وسیع میدان موجود نہیں ہے اور اس میدان کو چند برس پہلے شجر کاری کے ذریعہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنادیا گیا تھا لیکن اس کے بعد بھی میدان کی ترقی کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جبکہ اس محلہ سے کئی نوجوان کرکٹ کھیلنے کے لئے دوردراز مقامات پر کرکٹ باکس میں پیسے دیتے ہوئے کرکٹ کھیلنے کے لئے جا رہے ہیں اور محلہ میں موجود میدان میں سہولتوں کے نہ ہونے کے نتیجہ میں اس میدان کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں جبکہ خورشید جاہ میدان میں اگر مورم اندازی کرتے ہوئے اسے مسطح کیا جاتا ہے اور فٹبال و کرکٹ کے لئے پول کے علاوہ پچ بنانے کے علاوہ رات کے اوقات میں روشنیوں کاانتظام کرتے ہوئے ہائی ماسٹ لائٹس لگائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس میدان کو دوبارہ کھیل کود کی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔3