ارکان خاندان کے پاسپورٹ کے حصول میں دشواری، ناگپور سے درخواست داخل کی گئی
حیدرآباد ۔30 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) دبئی میں 30 کروڑ روپئے کی لاٹری جیتنے والے تلنگانہ کے شہری اوگلا اجئے کو حیدرآباد میں پاسپورٹ حکام سے مایوسی کا سامنا ہے۔ پاسپورٹ کی عاجلانہ اجرائی کیلئے ریجنل پاسپورٹ آفس کے تحت 4 سیوا کیندر اور 14 پوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا کیندر ہفتہ کی تعطیلات میں بھی کام کر رہے ہیں لیکن جگتیال سے تعلق رکھنے والے اجئے کو افراد خاندان کے پاسپورٹس حاصل کرنے کیلئے اپائنٹمنٹ ملنا دشوار ہوچکا ہے۔ دبئی کی لاٹری میں 30 کروڑ کا انعام جیتنے کے بعد اجئے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے لاٹری جیتنے کی خوشی میں افراد خاندان کو شامل کرنے کیلئے پاسپورٹ کے حصول کی کوشش کی لیکن بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک انہیں اپائنٹمنٹ نہیں ملا ہے۔ افراد خاندان انتہائی بے صبری کے ساتھ اپنے اپائنٹمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اجئے 30 کروڑ کی لاٹری جیت کر متحدہ عرب امارات میں خوش قسمت ثابت ہوئے لیکن افراد خاندان کو پاسپورٹ کے حصول میں ناکامی سے وہ مایوس ہیں۔ حیدرآباد اور دیگر مقامات پر اپائنٹمنٹ نہ ملنے سے مایوس ہوکر وہ مہاراشٹرا کے ناگپور پہنچے تاکہ پاسپورٹ کیلئے درخواست داخل کی جاسکے۔ 31 سالہ اجئے دبئی میں ایک گجراتی تاجر کے ادارہ میں ڈرائیور کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے آجر کی ایماء پر انہوں نے پہلی مرتبہ لاٹری کا ٹکٹ حاصل کیا اور 15 ملین درہم کی لاٹری ان کے حق میں رہی جو ہندوستانی 30 کروڑ کے برابر ہے۔ اجئے کا کہنا ہے کہ میں خوشی میں اپنی ماں ، بہن اور بھائی کو شامل کرنے کیلئے دبئی بلانا چاہتا ہوں۔ ان کے پاس پاسپورٹس نہیں ہیں کیونکہ میری ماں اور بہن نے آج تک بیرونی سفر نہیں کیا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ ایک بڑی رقم جیت چکا ہوں لیکن تلنگانہ میں پاسپورٹ کیلئے سلاٹ حاصل کرنے میں ناکامی سے مایوس ہوں۔ حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں میں سلاٹ بکنگ نہ ہونے پر انہوں نے ناگپور سے درخواست داخل کی ہے۔ اجئے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے آجر سے ملاقات کرنا چاہتا ہے جنہوں نے لاٹری ٹکٹ لینے کی ترغیب دی تھی۔ اجئے نے کہا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے اکاؤ نٹ میں 50 درہم بھی موجود نہیں ہے کیونکہ ساری تنخواہ کی رقم وہ گھر بھیج دیتا ہے تاکہ قرض ادا کیا جاسکے۔ دبئی سے قبل اجئے ابوظہبی ، کویت اور قطر میں کام کرچکا ہے لیکن اس کا ذاتی گھر نہیں۔ گاؤں میں نئے مکان کی تعمیر کا آغاز کیا گیا تھا لیکن مالیہ کی کمی کے باعث کام ادھورا ہے۔ اجئے نوجوانوں کے گروپ جاگو کے ذریعہ اپنے گاؤں میں فلاحی کاموں میں حصہ لیتاہے۔ ر