نوجوان روزگار سے محروم‘ مزدوری کرنے اور ریل بنانے کو کہا جارہا ہے۔ پریاگ راج میں چھاتروں کی گونج میں اظہار خیال
پریاگ راج 8 اگسٹ ( ایجنسیز ) کانگریس رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے آج اترپردیش کے پریاگ راج میں چھاتروں کی گونج پروگرام سے خطاب کیا اور انہوں نے درد ‘ ڈیٹا اور دولت کے موضوع پر خطاب کیا اور دعوی کیا کہ آج ہندوستان میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے ۔ راہول گاندھی نے طلباء سے خطابکرتے ہوئے کہا کہ آج شام وہ ان کے ساتھ درد ‘ ڈیٹا اور دولت کے موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ ہندوستان کے 40 کروڑ نوجوان ملک کی ایک عظیم طاقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکہ ‘ چین اور روس کی بات ہو رہی ہے جبکہ ہندوستان کے نوجوانوں کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔راہول گاندھی نے ملک میں تعلیمی نظام اور اس کی اہمیت کی بنیاد کو ختم کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آج ہندوستان میں ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں کوئی ملازمت یا رومگار نہیں ملتا ۔ راہوگاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں ملازمت کے تمام دروازے بند ہوگئے ہیں۔ عوام کے ڈیٹا کو چھین کر بڑی کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔ پھر نوجوانوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ریل بنائے اور مواد تیار کریں۔ اس بات کو سمجھا جائے کہ 21 صدی میں ریل ایک لت بن گئی ہے ۔ اس سب کے بعد نوجوانوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ بلنکٹ میں کام کریں ‘ اوبیر میں کام کریں ‘ مزدوری کریں ‘ ریل بنائیں ‘ تاہم آپ کو اس ملک میں ایک ملازمت نہیں مل سکتی ۔ راہول گاندھی کے اس چھاتروں کی گونج پروگرام میں کثیر تعداد میں طلباء اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں نے شرکت کی ۔ یہ پروگرام کے پی گراونڈ پر منعقد ہوا تھا حالانکہ وہاں پانی جمع تھا اور کیچڑ بن گیا تھا ۔ قبل ازیں راہول گاندھی کے پریاگ راج پہونچنے پر پردیش کانگریس قائدین کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ واضح رہے کہ کے پی کالج گراونڈ پر راہول گاندھی کے اس چھاتروں کی گونج پروگرام کی پہلے اجازت دی گئی تھی تاہم بعد میں اجازت منسوخ بھی کردی گئی تھی تاہم کانگریس اور راہول گاندھی نے اس پروگرام کو برقرار رکھا اور ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور ملازمت کے خواہاں امیدواروں نے شرکت کی ۔ طلباء و نوجوانوں کی آمد کا سلسلہ دوپہر سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔