دستاویز لیک کرنے والا اہلکار لاکھوں افراد کومارنا چاہتا تھا: امریکی عدالت

   

واشنگٹن : پینٹگان دستاویز لیک کرنے والے جیک ٹیکسیرا کے متعلق امریکی عدالت نے کہا ہیکہ وہ دنیا میں لاکھوں افراد کو مارنا چاہتا تھا اور اپنے بیڈ روم کی دیوار پر روسی فوجی تمغے لٹکانا چاہتا تھا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹیکسیرا نے باقاعدگی سے پرتشدد تبصرے کیے اور قتل کے اشارے کیے ہیں۔ اپنے تبصروں میں اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کمزور ذہن رکھنے والوں کو پھانسی کے ذریعہ بڑی تعداد میں قتل کر ڈالے گا۔عدالت نے مزید کہا ہیکہ یہ نوجوان اب بھی قومی سلامتی کیلئے ایک مسلسل خطرہ ہے۔ عدالت نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ دشمن ریاستیں اسے محفوظ پناہ گاہ اور اسے امریکہ سے فرار ہونے میں سہولت فراہم کر سکتی ہیں۔عدالت نے متنبہ کیا کہ 20 سالہ نوجوان نے جو مواد دیکھ رکھا تھا وہ سب مواد عوامی طور پر نہیں دکھایا گیا، تمام مواد ظاہر ہونے کی صورت میں امریکہ کی قومی سلامتی کو اضافی اور غیرمعمولی طور پر خطرناک نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ پینٹگان پیپرز لیک کرنے والے ملزم نے روسی مسلح افواج کا ہار لٹکایا اور اپنے کمرہ کی دیواروں کو سجانے کیلئے لگائی گئی انسانی تصاویر کو گولیوں سے چھلنی کرنے کے اہداف کے طور پر استعمال کیا۔