دنیا کے 10 طویل دریاؤں کی نشاندہی، چین، روس، ساؤتھ اور نارتھ امریکہ کو دریاؤں سے فوائد
حیدرآباد 17 اگست (سیاست نیوز) کرۂ ارض پر دریاؤں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ماحولیاتی نظام کی برقراری میں دریاؤں کا اہم رول ہوتا ہے۔ عام طور پر ایسے علاقوں کو زرخیز اور شاداب تصور کیا جاتا ہے جہاں سے زائد دریائیں گزرتی ہیں۔ دنیا کی 10 طویل مسافتی دریاؤں کی نشاندہی کی گئی جن میں دریائے نیل مسافت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا دریا کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ شمال مشرقی افریقہ سے گزرنے والی دریائے نیل کی مسافت 6650 کیلو میٹر درج کی گئی ہے جبکہ ساؤتھ امریکہ میں موجود امیزان دریا 6400 کیلو میٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ایشیاء بالخصوص چین سے گزرنے والی Yangtze دریا کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے جس کی مسافت 6300 کیلو میٹر درج کی گئی ہے۔ نارتھ امریکہ کی مسیسیپی اور مسوری دریا 6275 کیلو میٹر کے ساتھ چوتھے مقام پر ہے۔ دیگر طویل مسافتی دریاؤں میں روس، منگولیا، نارتھ ایشیاء، سنٹرل افریقہ کے دریا شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے ذریعہ نہ صرف عوام کیلئے پینے کے پانی بلکہ زرعی اغراض کیلئے پانی سیراب کرنے میں مدد ملے گی۔ ٹرانسپورٹ، انڈسٹریز اور انسانی وسائل جیسے شعبہ جات میں بھی دریاؤں کا اہم رول رہا ہے۔ دنیا کی طویل مسافتی دریاؤں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کئی ممالک سے گزرتی ہیں اور بیک وقت کئی ملک دریاؤں سے مستفید ہورہے ہیں۔V/1/k/b