دنیا کے 10 طویل قامت مجسموں میں جاپان اور ہندوستان کو نمایاں اہمیت

   

گجرات کا اسٹیچیو آف یونیٹی دنیا کا بلند ترین مجسمہ، چین ، میانمار اور تھائی لینڈ میں بھی تاریخی مجسمے
حیدرآباد۔6 ۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) دنیا کے 10 طویل قامت مجسموں میں ہندوستان کے دو مجسموں کا شمار ہوتا ہے۔ مختلف اہم شخصیتوں اور عقائد کے علاوہ نظریات کی ترجمانی کرنے والے دنیا کے طویل قامت مجسمے ہندوستان ، چین ، میانمار ، جاپان، فلپائن اور تھائی لینڈ میں واقع ہیں۔ 10 طویل قامت مجسموں میں جاپان ، چین اور ہندوستان کے علی الترتیب 3 اور 2 مجسمے شامل ہیں۔ گجرات میں واقع اسٹیچیو آف یونیٹی (مجسمہ یکجہتی) دنیا کا سب سے طویل قامت مجسمہ ہے جو 182 میٹر بلند ہے۔ مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد ملک کے سابق وزیر داخلہ سردار پٹیل کا طویل قامت مجسمہ نصب کیا گیا جو ساری دنیا کیلئے توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس مجسمہ کی اونچائی 597 فٹ درج کی گئی ہے۔ دنیا کا دوسرا طویل قامت مجسمہ چین میں واقع ہے جو 128 میٹر بلند ہے۔ اس مجسمہ کو اسپرنگ ٹمپل بدھا کا نام دیا گیا ہے۔ بلند مجسموں میں میانمار تیسرے نمبر پر ہے جہاں 115.8 میٹر بلند لیکیوم سکیا کا مجسمہ ہے۔ ہندوستان کا دوسرا طویل قامت مجسمہ اسٹیچیو آف بلیو (عقیدہ کا مجسمہ) 106 میٹر بلند ہے جو بدھا کی یادگار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جاپان میں اوشیکو دیبتھسو کا 100 میٹر بلند مجسمہ موجود ہے۔ جاپان میں مزید دو طویل قامت مجسمات ہیں جس کی بلندی 92 اور 88 میٹر ہے۔ مذکورہ 10 مجسمات کا شمار فن اور تہذیب کے اعتبار سے انتہائی غیر معمولی اور تاریخی نوعیت کے مجسمات میں ہوتا ہے۔ ایشیا
میں طویل قامت مجسمات بطور یادگار نصب کئے گئے ہیں اور دنیا کے 10 بلند مجسمات میں 9 کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے۔ تاریخی وراثت کو عوام اور سیاحوں تک پہنچانے کیلئے مجسمات نصب کئے گئے جو مذکورہ ممالک کے قومی وقار کی علامت ہے۔ تفریحی مقامات پر ہر سال لاکھوں افراد مجسموں کا مشاہدہ کرنے کیلئے پہنچتے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تاریخی اور سیاحتی مقامات کے طور پر طویل قامت مجسمات میں دنیا بھر میں اپنی شناخت بنائی ہے اور سیاحت کے فروغ میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ گجرات میں اسٹیچیو آف یونیٹی کی تنصیب کے بعد سے سابرمتی کے کنارے سیاحوںکی آمد میں تیزی سے اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہوئے مختلف ممالک نے بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کئے ہیں۔ سیاحت کے ذریعہ سرکاری خزانہ کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ 1/k/m/b