اقلیتی طلبہ کے 164 کروڑ روپئے بقایا جات، طلبہ مایوس، تعلیمی ادارے مشکلات سے دوچار
حیدرآباد۔24۔ جنوری (سیاست نیوز) ریاست میں مستحق طلبہ کو دو سال سے اسکالرشپ اور ٹیوشن فیس کی ادائیگی روک دی گئی ہے ۔ مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم اقلیتی طلبہ کے 164 کروڑ روپئے زیر التواء ہے۔ بہبود سے متعلق محکمہ جات کی جانب سے درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے فنڈس کی اجرائی کے باوجود مالیاتی تحدیدات کی وجہ سے سرکاری خزانہ سے رقم طلبہ کے بینک کھاتوں میں منتقل نہیں ہورہی ہے ۔ محکمہ فینانس ٹریژری کی ادائیگیوں کیلئے تین ماہ قبل ہی ٹوکنس جاری کیا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔ تعلیمی کورس کی ٹیوشن فیس کے علاوہ کتابوں اور میس چارجس کے تحت واجب الادا رقم بھی موصول نہیں ہوئی ۔ گزشتہ دو سال 2020-21 اور 2021-22 کے دو ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کی فیس کے بلز زیر التواء ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں ہر سال 12.50 لاکھ طلبہ ٹیوشن فیس اور اسکالرشپس کیلئے درخواستیں داخل کرتے ہیں ۔ انہیں ادا کی جانے والی فیس کا ڈیمانڈ 2400 کروڑ روپئے ہے ۔ حکومت نے حال ہی میں چند کالجس میں فیس میں اضافہ کیا ہے جس سے ڈیمانڈ بڑھ کر 2450 کروڑ تک پہنچ گیا ہے ۔ ہر تعلیمی سال مستحق طلبہ سے حکومت درخواستیں وصول کرتی ہے اور آئندہ سال فیس ادا کرتی ہے ۔ ابھی تک سال 2020-21 ء کے 300 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ سال 2021-22 ء کے لئے ٹیوشن فیس اور اسکالرشپ جاریہ سال مکمل ادا کرنا ہے ۔ متعلقہ محکمہ جات نے 1872 کروڑ روپئے کے بلز ٹریژری کو روانہ کردیئے ہیں جن کیلئے محکمہ فینانس نے اکتوبر میں ہی ٹوکن جاری کیا ہے ۔ تاہم ابھی تک صرف 157 کروڑ روپئے ہی ادا کئے ہیں ۔ آئندہ دو ماہ کے دوران ان ٹوکنس پر عمل آوری نہیں ہوئی تو آئندہ مالیاتی سال کے آغاز کے تین تا چار ماہ گزر جانے پر فیس جاری ہونے کے امکانات ہیں۔ تلنگانہ خانگی تعلیمی اداروں کے صدر گوری ستیش نے کہاکہ دو سال سے تدریسی فیس جاری نہیں کی گئی جس سے کالجس چلانا مشکل ہوگیا ہے ۔ حکومت صرف ٹوکنس جاری کر رہی ہے ، مگر فیس ادا نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے فوری فیس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ محکمہ جات بہبود رواں تعلیمی سال کیلئے تدریسی فیس کیلئے درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے ۔ تمام متعلقہ محکمہ جات نے اس ضمن میں آخری تاریخ میں مزید دو ماہ کی توسیع دینے کی حکومت سے اپیل کی کیونکہ جاریہ تعلیمی سال میڈیکل کورسیس کے علاوہ دوسرے کورسیس کے داخلوں میں تاخیر ہوئی ہے ۔ درخواستیں داخل کرنے کی مہلت 31 جنوری ہے ۔ اگر حکومت منظوری دیتی ہے تو 31 مارچ تک درخواستیں داخل کرنے کی گنجائش فراہم ہوگی۔ ن