دودھ کی قیمتوں میں اضافہ پر عوامی مخالفت میں شدت

   

بنگلورو، 30 اکتوبر (یو این آئی) کرناٹک میں کانگریس حکومت کی جانب سے نندنی دودھ کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر اضافے کے فیصلے پر سیاسی اور عوامی مخالفت میں شدت آگئی ہے ۔ صارفین کی تنظیموں اور ہوٹل انڈسٹری نے اس اضافے کو عام خاندانوں پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیری کسانوں کو مالی نقصانات سے بچانے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا، جس کے بعد دودھ کی قیمت 46 روپے سے بڑھ کر 54 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔ اس بھاری اضافے سے نہ صرف گھریلو بجٹ متاثر ہونے کا امکان ہے بلکہ ہوٹلوں اور مہمان نوازی کے شعبے کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس تنازع نے حکومت کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کردی ہے ، جہاں ایک طرف ڈیری کسانوں کے مالی مطالبات پورے کرنے ہیں تو دوسری طرف عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ سے بچانا بھی ضروری ہے ۔ بنگلور ہوٹلس ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمت میں 8 روپے اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اضافہ صرف 2 سے 3 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا جائے ۔ ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر پی سی راؤ نے کہا کہ اضافی اخراجات کو دیکھتے ہوئے ہوٹلوں کے مالکان خود اپنے مینو کی قیمتوں میں تبدیلی کا فیصلہ کریں گے۔