ماسکو: یوکرین جنگ کے گزشتہ سال فروری میں شروع ہونے کے بعد سے چینی صدر ژی جن پنگ روس کے پہلے سرکاری دورہ پر آج ماسکو پہنچ رہے ہیں۔صدر ژی جن پنگ نے دورہ روس کو ’دوستی، امن اور تعاون کا سفر‘ قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اتحاد کی مضبوطی کو سراہا ہے۔ تاہم مغربی ممالک کے خیال میں چین اپنے مفاہمتی رویے سے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کو سفارتی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔جمعہ کو چینی دفتر خارجہ کی ترجمان نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ صدر ولادیمیر پوتن کی دعوت پر صدر ژی جن پنگ 20 سے 22 مارچ تک روس کا دورہ کریں گے۔روس پہنچنے سے پہلے صدر ژی جن پنگ کی طرف سے لکھا ہوا ایک مضمون روسی اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ’صدر پوتن کے ساتھ مل کر ایک نیا ویژن اپنانے کیلئے پرامید ہوں۔‘یوکرین جنگ کے دوران چین کی کوشش رہی ہے کہ وہ خود کو ایک غیر جانبدار فریق کے طو پر ظاہر کرے۔ اسی حوالے سے چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کے فروغ کیلئے بیجنگ تعمیری کردار ادا کرے گا۔صدر ژی جن پنگ کے دورہ روس سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار صدر ولادیمیر پوتن کو تقویت ملے گی۔