دھرانی اور بھوبھارتی پر اسمبلی میں گرما گرم مباحث، دھرانی کے سبب بی آر ایس کو زوال : پی سرینواس ریڈی
حیدرآباد۔/26 مارچ، ( سیاست نیوز) بی آر ایس دور حکومت کے دھرانی پورٹل اور کانگریس کے بھوبھارتی پورٹل پر آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں گرما گرم مباحث ہوئے۔ دونوں پارٹیوں کے ارکان نے ایک دوسرے کے پورٹل میں نقائص کی نشاندہی کی۔ بی آر ایس کے رکن پی راجیشور ریڈی نے دعویٰ کیا کہ کے سی آر حکومت نے اراضیات کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کیلئے مکمل شفافیت کے ساتھ دھرانی پورٹل کا آغاز کیا تھا۔ کانگریس حکومت نے دھرانی پورٹل کو منسوخ کرتے ہوئے بھوبھارتی پورٹل متعارف کیا جس میں کئی خامیاں ہیں۔ وزیر مال پی سرینواس ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے بی آر ایس رکن کے الزامات پر برہمی کا اظہار کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ایک قلم کی جنبش سے ہزاروں خاندانوں کا اراضیات پر سے حق ختم کردیا گیا۔ کانگریس پارٹی نے دھرانی پورٹل کو خلیج بنگال میں پھینک دینے کا وعدہ کیا تھا اور اس کی تکمیل کی ہے۔ راجیشور ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بھوبھارتی کے نام پر حکومت غریبوں کی اراضیات ہڑپ کررہی ہے جنہیں فروخت کرتے ہوئے آمدنی کے حصول کا منصوبہ ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ کی مسلح جدوجہد کا نعرہ کاشت کرنے والوں کو زمین کا حق تھا اسی جدوجہد سے متاثر ہوکر کانگریس حکومت نے کسانوں کو اراضیات کا حق فراہم کیا۔ بی آر ایس نے ایک قلم کی جنبش سے اراضیات کے حقوق کو ختم کردیا تھا اور دھرانی پورٹل قانون کے ذریعہ عوام کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی بھوبھارتی قانون پر آئندہ انتخابات میں عوام سے رائے حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھرانی پورٹل کے خلاف عوام نے ریفرنڈم میں بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے وی آر اے اور وی آر او عہدوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ کانگریس حکومت نے ان عہدوں کو عوام کی مدد کیلئے دوسرے انداز میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں دھرانی پورٹل پر عوام کا فیصلہ منظرعام پر آچکا ہے اور عوام نے دھرانی پورٹل کو مسترد کردیا۔ کانگریس نے دھرانی پورٹل کی جگہ بھوبھارتی قانون کو متعارف کیا ہے۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس ارکان دھرانی پورٹل کے نقصانات کو عوام کی نظروں سے مخفی رکھنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ بی آر ایس اور کانگریس ارکان کے درمیان دھرانی پورٹل اور بھوبھارتی کے مسئلہ پر الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا۔1