مسجد کے بعد درگاہ کو نشانہ بنانے پر مسلمانوں میں بے چینی
حیدرآباد۔/6 فروری، ( سیاست نیوز) ملک کے مختلف علاقوں میں وقفہ وقفہ سے مساجد اور درگاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ گذشتہ دنوں نئی دہلی میں مہرولی کی 600 سالہ قدیم مسجد کو بلدی حکام کے ذریعہ شہید کردیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے جذبات کے مجروح ہونے کی پرواہ کئے بغیر نئی دہلی میں ایک مشہور صوفی کی درگاہ کو مسمار کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی دہلی میں مشہور صوفی بزرگ کی مزار کو جن کا تعلق پرتھوی راج چوہان کے دور سے بتایا جاتا ہے اسے دہلی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے مخالف غیر مجاز قبضوں کی کارروائی کے تحت مسمار کردیا۔ نئی دہلی میں بلدی حکام کی جانب سے مساجد اور درگاہوں کو مسمار کئے جانے سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔1