حیدرآباد۔/12 فروری، ( سیاست نیوز) ایچ ایم ڈی اے کا رنگاریڈی اور ملکاجگری اضلاع میں ذخائر آب کے ایف ٹی ایل زون میں واقع دو اراضیات کے موقف میں تبدیلی سے متعلق نوٹیفکیشن ایک نئے تنازعہ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایچ ایم ڈی اے نے حال ہی میں دو نوٹیفکیشن جاری کئے جس کے تحت اراضی کو محفوظ اراضی سے رہائشی میں تبدیل کرنے کے سلسلہ میں عوام سے اعتراضات طلب کئے گئے ہیں۔ 22 جنوری کو جاری نوٹیفکین کے مطابق جن اراضیات کی نشاندہی کی گئی وہ ذخائر آب کے ایف ٹی ایل اور بفر زون کے تحت آتے ہیں۔ شیر لنگم پلی منڈل کے گوپی چیروو کے تحت اراضی کے موقف کو تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سروے نمبر 84 کے تحت واقع 8 ایکر اراضی ذخیرہ آب کا جزوی حصہ ہے اور کچھ حصہ بفر زون جبکہ باقی اراضی کنزرویشن زون یعنی محفوظ زمرہ کے تحت ہے۔ سروے کے مطابق اراضی کا کچھ حصہ گوپی چیروو کے تحت آتا ہے ۔ یہ اراضی غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی ہے۔ اسی طرح میڑچل ضلع کے گنڈلہ پوچماں گاؤں میں 2.2 ایکر اراضی کو رہائشی زون میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ نوٹیفکیشن میں جن سروے نمبرات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ 6 ذخائر آب کے تحت موجود نہیں ہیں۔ ایچ ایم ڈی اے کی ویب سائیٹ پر نقشہ کے مطابق سروے نمبر 517 کے تحت موجود 1838 ایکر مکمل طور پر ذخیرہ آب کے تحت ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت عوام سے اعتراضات کیلئے ایک ہفتہ کی مہلت دی گئی ہے۔ 1
اراضی کے موقف میں تبدیلی کے سلسلہ میں اعلیٰ عہدیدار کسی بھی تبصرہ سے گریز کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دو ذخائر آب کی مقبوضہ اراضی کو رہائشی زون میں تبدیل کرنے کے فیصلہ سے ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگا۔1