ذکر الٰہی …حج و عمرہ کی فضیلت

   

الحاج خواجہ رحیم الدین
اﷲ تعالیٰ نے مکہ شریف کو تمام شہروں میں فضیلت عطا فرمائی ، اس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ فرمایا ۔ رسول اﷲ ﷺ نے ہجرت کے وقت اﷲ کے نزدیکہ مکہ شریف کے مقام و مرتبہ کا جو ذکر فرمایا اس سے مکہ کی فضیلت خوب عیاں ہوجاتی ہے ۔ مکہ شریف میں اﷲ کا گھر ہے جو اﷲ کی عبادت کیلئے بنایا گیا ہے اور یہ مسجد احرام ہے ، اس میں پڑھی گئی نماز دوسری جگہ کی نماز سے افضل ہے ۔اﷲ کے لئے بندوں پر حج بیت اﷲ فرض ہے ۔حج ۹ ہجری میں فرض ہوا ۔ اس سال نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیرالحجاج بنایا اور تین سو صحابہ کو ان کے ہمراہ کیا تاکہ سب کو حج کرائیں۔ ان کے بعد علی مرتضیٰ کو روانہ کیا کہ وہ سورہ برأت کا اعلان کریں۔ حضرت ابوبکرؓ نے لوگوں کو حج کرایا اور حضرت علیؓ نے سورہ برأت کی چالیس آیتوں اور اُن کے احکام پڑھ کر سنائے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اﷲ کے اندر داخل ہونے نہ پائے گا اور کوئی شخص ننگا ( برہنہ ) ہوکر خانہ کعبہ کا طواف نہ کرسکے گا ۔ حدیث میں آیا ہے جو شخص حج کرے اور اس میں کوئی فحش کام نہ کرے اﷲ کی نافرمانی نہ کرے تو گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوکر آئے گا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے وقت پاک تھا ۔ حضرت جبرئیل ؑنے حسب الحکم بارئی تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو عرفات میں حج کرایا ، خانۂ خدا کے طواف کا طریقہ بتایا۔ حضرت آدم و حوا نے حج کے بعد غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ میں شب کو قیام فرمایا اس لئے اس کو واجب کہا گیا ۔ حج کی تکمیل میں تین ارکان دو فرض اور ایک واجب رائج تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے ان ارکان میں سعی ، صفا و مروہ کے سات چکر ، منی میں قربانی ، رمی جمار اور طواف وداعی واحب کردیئے گئے جس نے یہ تمام ارکان پورے کئے اس نے فریضہ حج ادا کیا ۔ زیادہ اہم وقوف عرفہ ہے ۔ حج کے فرائض ادا کرنے سے صحیح حج ہوگا ۔ حج کے اصل فرض تین ہیں ، اول احرام حج کی نیت ، تلبیہ یعنی لبیک کہنا ، وقوف عرفات یعنی ۹ ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے وقت ۱۰ ذی الحجہ کی صبح صادق ہونے سے ذرا پہلے تکعرفات میں کسی وقت ٹھہرنا ، دس ذی الحجہ کی صبح سے لیکر بارہوی ذی الحجہ تک سر کے بال منڈانا یا کتروانا ، اگر ان تینوں میں سے کچھ چھوٹ جائے تو حج صحیح نہ ہوگا ، اس کی تلافی نہیں ہوگی ۔