گورنر سوندرا راجن کا مہیلا دربار ، جوبلی ہلز واقعہ کی رپورٹ مجھے نہیں ملی، مسائل کی سماعت سے کوئی روک نہیں سکتا
حیدرآباد۔10۔ جون (سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ حیدرآباد میں گزشتہ دنوں کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی کے واقعات سے پیدا شدہ صورتحال کے دوران گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے خواتین کے مسائل کی سماعت کیلئے مہیلا دربار پروگرام منعقد کیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین نے شرکت کرتے ہوئے اپنے مسائل سے گورنر کو واقف کرایا ۔ راج بھون کے دربار حال میں مختلف خواتین کی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ کانگریس کی مہیلا قائدین بھی موجود تھیں۔ مہیلا دربار میں شرکت کے لئے راج بھون سے ربط قائم کرنے کا نمبر دیا گیا لیکن لمحہ آخر میں راست طور پر پہنچنے والی خواتین کو داخلہ کی اجازت دی گئی۔ اس موقع پر گورنر نے جوبلی ہلز میں پیش آئے واقعہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے واقعہ کے سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل پولیس اور چیف سکریٹری کو اندرون دو یوم رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن ابھی تک کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی منتخب حکومت کا وہ احترام کرتی ہیں اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گورنر کے عہدہ کے پروٹوکول کی مکمل پابندی کرے۔ گورنر کی جانب سے مہیلا دربار کے انعقاد سے حکومت کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ کا اندیشہ ہے ۔ خواتین سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ کوئی بھی طاقت انہیں خواتین کے مسائل کی سماعت سے روک نہیں سکتی۔ جو لوگ مجھ پر پیٹھ پیچھے نکتہ چینی کر رہے ہیں ، میں ان کی پرواہ نہیں کرتی۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ کے خواتین کو مشکلات میں دیکھتے ہوئے میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ ان کے لئے میں جدوجہد جاری رکھوں گی۔ گورنر نے کہا کہ مظلوم خواتین کو بچانے کیلئے وہ ہمیشہ چٹان کی طرح کھڑی رہیں گی۔ گورنر نے مہیلا دربار پروگرام کا شاندار پیمانہ پر انعقاد عمل میں لایا تھا اور دربار حال کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا۔ گورنر نے شمع روشن کرتے ہوئے اس پروگرام کا افتتاح کیا۔ گورنر نے سامعین سے تلگو میں خطاب کرتے ہوئے ستائش حاصل کی۔ گورنر نے کہاکہ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ گورنر عوام سے کیوں ملاقات کر رہی ہیں۔ کئی افراد کو اس بارے میں شبہات پائے جاتے ہیں ۔ کوئی بھی سرکاری دفتر عوام کیلئے ہوتا ہے، اسے بھولنا نہیں چاہئے۔ کورونا کے دور میں سیکوریٹی کی جانب سے منع کرنے کے باوجود میں نے مریضوں کی عیادت کی تھی۔ سماج میں خواتین کئی ایک مسائل کا شکار ہیں۔ ایک خاتون کی حیثیت سے متاثرہ خواتین کا ساتھ دینا میری ذمہ داری ہے ۔ خواتین کو مجھ سے کافی امیدیں ہیں۔ میں تلنگانہ کی خواتین کے دکھ درد میں ساتھ رہوں گی۔ خواتین اور حکومت کے درمیان رابطہ کا کام انجام دوں گی۔ اس سلسلہ میں میں تنقید کرنے والوں کی پرواہ نہیں کروں گی۔ گورنر نے کہا کہ تلنگانہ کے خواتین مکمل طور پر محفوظ ہونی چاہئے ۔ میں ایک بہن کی طرح تلنگانہ کی خواتین کے ساتھ ہوں۔ مجھے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ متاثرین کی آواز سننے کیلئے میں نے یہ پروگرام رکھا ہے۔ گورنر نے کہا کہ 24 گھنٹے قبل انہوں نے خواتین سے ملاقات کا فیصلہ کیا اور غیر معمولی ردعمل حاصل ہوا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں مہیلا دربار منعقد کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی سیاسی مقصد شامل نہیں ہے۔ بعض افراد راج بھون میں پروگراموںکے انعقاد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ راج بھون کو کسی بھی پروگرام کے انعقاد کا حق حاصل ہے۔ یہ کوئی سیاسی دفتر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر عوام کیلئے ہوتے ہیں اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ راج بھون کا احترام کریں۔ جو بھی مسائل میرے علم میں لائے گئے میں انہیں حکومت کو روانہ کروں گی اور حکومت کو کارروائی کرنی چاہئے۔ گورنر نے کہاکہ وہ تلنگانہ عوام کی خدمت کے جذبہ کے تحت کام کر رہی ہیں۔ر