راجستھان بلدیاتی چناؤ‘ جیت کس کی؟

   

باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
راجستھان میں شہری بلدیات کے انتخابات میں جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ تمام سیاسی جماعتوں کیلئے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں تو ساتھ ہی انہیں لمحہ فکریہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ریاست کے کئی کارپوریشنوں ‘ بلدیات اور میونسپلٹیز میں جملہ 10 ہزار سے زائد وارڈز کیلئے رائے دہی ہوئی تھی جن میں برسر اقتدار بی جے پی نے 4100 سے زائد وارڈز پر جیت حاصل کرتے ہوئے سبقت ضرور بنائی ہے ۔ تاہم کانگریس نے بھی سخت مقابلہ کیا ہے اور کئی اہم علاقوں میں بی جے پی کے بڑے قائدین کے اثر کو ختم کرتے ہوئے 3679 وارڈز پر قبضہ کیا ہے ۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے اپنی اس نا مکمل جیت کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن بحیثیت مجموعی نتائج بی جے پی کیلئے تشویش کا باعث کہے جاسکتے ہیں۔ بی جے پی کے ریاست اور مرکز میں برسر اقتدار رہنے کے باوجود کانگریس کی اتنی بھاری تعداد میں وارڈز پر کامیابی بی جے پی کیلئے ضرور مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔ خاص بات یہ کہ وارڈز کی تعداد میں چند سو کا فرق ضرور ہے لیکن بحیثیت مجموعی اگر ووٹوں کا تناسب دیکھا جائے تو بی جے پی کیلئے ضرور تشویش کی بات ہے کیونکہ دونوں پارٹیوں کے ووٹوں کے تناسب میں محض ایک فیصد کا فرق ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ مقامی سطح پر چند سو رائے دہندوں کے ساتھ ہونے والے وارڈز میں بھی بی جے پی اپنی بالادستی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے لیکن وہ اس شکست کو عوام کے ذہنوں سے محو کرنے کیلئے اپنی جیت کا جشن منا رہی ہے اور اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ ایسے کئی شہروں اور علاقوں میں بی جے پی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں بی جے پی کے بڑے قائدین کا اثر ہونے کا دعوی کیا جاتا تھا ۔ جھلاور میں بی جے پی چیف منسٹر وسندھرا راجے کے حلقہ اثر میں کراری شکست ہوئی ہے جبکہ چیف منسٹر کے حلقہ کی صورتحال بھی مختلف نہیں رہی ۔
چیف منسٹر کا گڑھ سمجھے جانے والے بھرت پور میں تو بی جے پی اور کانگریس دونوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یہاں دونوں جماعتوں سے زیادہ آزاد امیدواروں نے کامیابی درج کی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اگر تمام آزاد امیدوار یکجا ہوجائیں تو وہ اپنا غلبہ مزید مستحکم کرسکتے ہیں ۔ اجمیر بلدیہ پر بی جے پی کے ساڑھے تین دہوں سے چل رہے قبضہ کو کانگریس نے ختم کردیا ہے ۔ اسی طرح دوسرے کچھ کارپوریشنوں پر بھی بی جے پی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کانگریس نے کامیابی درج کی ہے ۔ حالانکہ کانگریس نے بی جے پی سے کم نشستیں حاصل کی ہیں لیکن ووٹوں کے فرق کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک فیصد ووٹوں کا فرق ہے اور یہ فرق اسمبلی انتخابات میں مزید بڑھتے ہوئے بی جے پی کیلئے بڑا جھٹکا ثابت ہوسکتا ہے ۔ ویسے بھی راجستھان کی روایت رہی ہے کہ وہاں ہر پانچ سال میں اقتدار بدلتا ہے ۔ ایک مرتبہ کانگریس تو دوسری مرتبہ بی جے پی کا اقتدار راجستھان کی روایت ہے اور شہری مجالس مقامی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ بھی اسی بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ راجستھان اسمبلی انتخابات میں یہ روایت برقرار رہے گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کیلئے راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ تاہم دونوں جماعتوں کیلئے تشویش کی بات یہ ضرور کہی جاسکتی ہے کہ مجالس مقامی انتخابات میں ہزاروں کی تعداد میں آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے عوامی موڈ کو پیچیدہ بنادیا ہے ۔
بی جے پی کی جانب سے بھلے ہی اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے پروپگنڈہ شروع کردیا گیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کو اس کی توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے جبکہ کانگریس کیلئے بھی یہ کامیابی توقعات کے مطابق نہیں کہی جاسکتی تاہم یہ کانگریس کیلئے حوصلہ افزاء ضرور ہے ۔ اب ریاست میں دونوں پارٹیاں جشن منا رہی ہیں اور کئی دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن دونوں کیلئے اپنی حکمت عملی اور عوام سے رابطوں کو مزید مستحکم کرنے اور تائید حاصل کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔