راجہ سنگھ کی کامیابی پر اویسی برادران وضاحت کریں : محمد ولی اللہ سمیر

   

اپوزیشن جماعتیں قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نشانے پر ‘مجلس کیسے محفوظ ، گوشہ محل میں گھر گھر مہم
حیدرآباد 30 اپریل : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کانگریس صدر و امیدوار کانگریس حیدرآباد محمد ولی اللہ سمیر نے خود کو قومی جماعت کے صدر کہنے والے صدر مجلس اسد الدین اویسی سے استفسار کیا کہ وہ حلقہ حیدرآباد میں شامل اسمبلی حلقہ گوشہ محل سے مقابلہ کیوں نہیں کرتے جس میں مجلس کا ہیڈکوارٹر دارالسلام بھی شامل ہے ۔ اس سے اندازہ ہوگیا کہ مجلس اور بی جے پی میں خفیہ سازباز ہے جس کی وجہ سے مجلس مقابلہ کی بجائے فرقہ پرست راجہ سنگھ کو کامیاب ہونے میں بالواسطہ مدد کرتی ہے ۔ اویسی برادران اس کی عوام سے وضاحت کریں ۔ محمد ولی اللہ سمیر نے آج گوشہ محل میں کانگریس قائدین اور کارکنوں کے ساتھ گھر گھر پارٹی کی انتخابی مہم چلائی انہیں اور کانگریس کو کامیاب بنانے کی اپیل کی انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا گیا تو حیدرآباد کو ورلڈ ہیرٹیج سٹی کا درجہ دلانے جدوجہد کرنے کا وعدہ کیا ۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کانگریس امیدوار نے کہا کہ سیاسی مفادات کی خاطر مجلس اور بی جے پی نے فرقہ پرستی ، مذہبی جذبات کو بھڑکاکر حیدرآباد کے برانڈ امیج کو داغدار بنایا ہے ۔ لہذا وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں تبدیلی کو ترجیح دیں ۔ حیدرآباد سے کانگریس کو کامیاب بناکر دونوں جماعتوں کو شکست دیں ۔ اگر انہیں کامیاب بنایا گیا تو وہ حیدرآباد کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دلانے کی کوشش کریں گے ۔ محمد ولی اللہ سمیر نے مجلس اور بی جے پی کی تفرقہ انگیز اور فرقہ وارانہ سیاست کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد ورلڈ ہیرٹیج سٹی کا درجہ حاصل کرنے کی تمام اہلیت رکھتا ہے ۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کے منفی اثر و رسوخ کی وجہ سے شہر کو اس عالمی اعزاز سے محروم رکھا گیا ہے ۔ مجلس اور بی جے پی کئی دہائیوں سے پرانے شہر پر اپنی اجارہ داری کی جنگ لڑ رہے ہیں مگر پرانے شہر کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے دونوں نے کبھی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے پرانے شہر کی معیشت کو نمایاں فروغ نہیں ملا بلکہ پرانے شہر کی پسماندگی ، فسادات ، کرفیو اور سلم علاقوں کیلئے مجلس و بی جے پی دونوں برابر کی ذمہ دار ہیں ۔ حیدرآباد کو دونوں جماعتوں نے بدنام کیا ہے ۔ مجلس دانستہ طور پر حلقہ گوشہ محل میں بی جے پی کو مضبوط و طاقتور بنانے تعاون کررہی ہے ۔ مرکزی حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیاں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتی ہیں ان کارروائیوں سے حیرت ہے مجلس محفوظ ہے ۔ نیشنل میڈیا میں اسد اویسی کی آو بھگت ہوتی ہے جس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہے ۔ اس طرح دونوں جماعتیں خفیہ طور پر اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں اس پر حیدرآباد کے عوام کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ 2