ایس آئی ٹی کی خصوصی تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد چمپت رائے کیا بولیں گے؟ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا پرمود تیواری کا سوال
نئی دہلی، 8 جولائی (یو این آئی) کانگریس ایم پی اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے رام مندر چڑھاوا اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور رام مندر ٹرسٹ پر حملہ بولا اور کہا کہ حکومت قصورواروں کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔ تیواری نے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے کے خط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں جو اندیشہ تھا، وہ سچ ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رائے نے تحریری طور پر کہا ہے کہ وہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ آنے کے بعد ہی بولیں گے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا چمپت رائے کو پہلے سے ہی ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی معلومات ہے اور کیا انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ رپورٹ آنے کے بعد وہ بولنے کی پوزیشن میں ہوں گے یا جیل کے اندر ہوں گے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں بھگوان رام کے نام پر لوٹ پاٹ کرنے والوں کو سزا نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب رام بھکتوں اور عوام کو ایسے لوگوں اور انہیں بچانے والوں کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر نے بی جے پی کے کانگریس پر بھگوان رام کے وجود پر سوال اٹھانے کے الزامات کو بھی خارج کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھگوان رام کے وجود پر سوال نہیں اٹھایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نو نومبر 1989 کو اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ سردار بوٹا سنگھ کے دور میں ایودھیا میں شری رام جنم بھومی کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس بھگوان رام کے وجود کو نہیں مانتی تو سنگ بنیاد کیوں رکھاجاتا۔ ان کے مطابق کانگریس پہلے بھی بھگوان رام میں آستھا رکھتی تھی، آج بھی رکھتی ہے اور آگے بھی رکھے گی۔ تیواری نے کہا کہ چاہے معاملہ مندر کا ہو یا وقف کا، اگر کہیں بھی چڑھاوے کی چوری، زمین میں ہیرا پھیری یا کوئی اور گڑبڑی ہوئی ہے تو قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فرضی ایس آئی ٹی بنا کر قصورواروں کو بچانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے ۔ بی جے پی پر مذہبی مقامات میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس رہنما نے کہا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی خبریں اب صرف ایودھیا تک محدود نہیں ہیں، بلکہ بدری ناتھ اور کیدارناتھ سے بھی چڑھاوے میں گڑبر کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ، وہاں لوٹ مچی ہوئی ہے ۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں دیے گئے اپنے پرانے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “ہم بھگوان رام کے پجاری ہیں، یہ بھاجپائی رام کے بپوپاری ہیں۔” مسٹر تیواری نے دعویٰ کیا کہ آج کے حالات ان کے اس قول کو سچ ثابت کر رہے ہیں اور بی جے پی کے لیے بھگوان رام آستھا نہیں بلکہ سیاست اور لوٹ پاٹ کا موضوع بن گئے ہیں۔
رام مندر ٹرسٹ چڑھاوں کی تفصیل عام کرے :کانگریس
نئی دہلی، 8 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے رام مندر ٹرسٹ سے آمدنی و خرچ کی پوری تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کروڑوں لوگوں کی آستھا سے جڑے ادارے میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ضروری ہے ۔ کانگریس کے ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے چہارشنبہ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مندر میں چڑھاوے ، آڈٹ رپورٹ، سی سی ٹی وی نظام اور زمین کی خریداری سے جڑے کئی سنگین سوالات کے جواب اب بھی نہیں ملے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سال 2023 سے 2025 کی آڈٹ رپورٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا ذکر ہونے کے باوجود ان پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کروڑوں لوگوں کی آستھا کا مرکز ہے ، اس لیے ٹرسٹ کو چڑھاوے سے حاصل رقم، اس کے استعمال اور خرچ کا پورا حساب کتاب عام کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مندر میں چڑھاوا چوری کے جو الزامات لگے ہیں ان سب کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانا بھی ضروری ہے ۔ کانگریس کے ترجمان نے الزام لگایا کہ مذہبی آستھا کا سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور ٹرسٹ کے کام کاج میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جانی چاہیے۔